درثمین فارسی کے محاسن — Page 106
1۔4 لیک آیگینه ام زریت غنی ؛ از پئے صورت میر مدنی ہر چہ آن یار ، بر دل من بیخت : نه شیاطین بدو نہ نفس آمیخت نہ خالص آمد کلام آن دادار : زمین سبب شد دلم پیرانہ انوار است آن وحی تیره سوختنی : که نبود است، بر یقین مبنی لیکن این وحی بالیقیں زند است : همه کارم ازاں یقین شده راست رور ثمین ص۳۳۳-۳۳۶)۔اس زمانہ میں بادی کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، سے گفت پیغمبر ستوده صفات : از خُدائے علیم مخفیات برسیر هر صدی، بیرون آید : آنکه این کار را ہے شاید تا شو د پاک، ملت از بدعات : تا بیابند خلق ، زو برکات الغرض، ذاتِ اولیاء کرام : هست مخصوص مِلتِ اسلام این مگو کی گزاف لغو و خطاست : تو طلب کن ثبوت آن بر ماست ے ترجمہ ا لیکن نہیں اس بے نیاز خدا کی طرف سے مدنی چاند کا سراپاد دنیا کو دکھانے کے لئے آئینہ کی مانند ہوں۔جو کچھ اس مجبور نے میرے دل پر القا کیا ہے، اس میں نہ شیطان ہی ملاوٹ کر سکے اور نہ ہی نفس۔اس محبوب کے کلام خالص نازل ہوا۔اسی لئے میرا دل انوار سے بھر گیا۔وہ تاریک می جلا دینے کے لائق ہے جس کی بنیا د یقین پر نہ ہو۔لیکن یہ وحی یقینا خدا کی طرف سے ہے۔میرا سب کام اسی یقین کی وجہ سے سنور گیا ہے۔ے ترجمہ: اس پسندیدہ صفتوں والے پیغمبر نے چھپی ہوئی باتوں کا علم رکھنے والے خدا سے علم کو بتایا تھاکہ ہر صدی کے سر یہ ایک شخص ظاہر ہوا کہ سے گا، جو اس کام کے لائق ہو۔تا یہ مذہب بدعتوں سے پاک ہو جائے۔اور تا لوگ اس سے برکتیں حاصل کریں۔غرض اولیائے کرام کا وجود مذہب اسلام سے مخصوص ہے۔یہ مت کہو کہ یہ بات بے ہودہ فضول اور غلط ہے ، تو مطالبہ کرے تو اس کا ثبوت ہمارے ذمہ ہے :