درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 105 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 105

۱۰۵ آنچه من بشنوم ، زوجي هندا : بخدا ، پاک دانمش زخطا همچو تر آن منزه اش دائم : از خطاها ، ہمیں است ایمانم من خدا را ، بدو شناخته ام و دل بدین آتشش گداخته ام بخدا ، هست این کلام مجید : از دیان خدائے پاک و وحید آنچه بر من عیاں شد از دادار به آفتا بے ست باد و صد انوالہ این خدا نیست ربّ اربائیم بکه رو آرم، الهه از و تابم انبیاء گرچه بوده اند کیسے : من بعرفاں نہ کمترم نے کیسے وارث مصطفه شدم به یقین شده رنگیں بزرنگ یارحسین آن یقینے کہ بُود عیسی را بر کلامی، که شد برو القا به واں یقین کلیم بر تو رات والی یقین ہائے سید السادات کم نیم ، زاں ہمہ بروئے یقیں : ہر کہ گوید دروغ است معین لے ترجمہ، خدا کی وحی سے جوکچھ میں سنتاہوں۔خدا کی قسم میں سے غلطی سے پاک سمجھتا ہوں۔میں اسے قرآن کی طرح غلطیوں سے پاک جانتا ہوں۔یہی میرا ایمان ہے۔میں نے اسی کے ذریعہ خدا کو پہچانا ہے اور اسی آاگ سے میں نے اپنے دل کو گداز کیا ہے۔خدا کی قسم یہ بزرگ کلام پاک اور کیا خدا کے اپنے منہ کا کلام ہے۔مجھے خدا کی طرف سے جو کچھ ظاہر ہوا ہے وہ ایک ایسا سورج ہے جس کی ساتھ سینکڑوں انوار ہیں۔یہ ہے میرا خدا جو پرورش کرنے والوں کی پرورش کرنے والا ہے۔اگر میں اسی روگردانی کروں تو پھر کس طرف رخ کروں۔انبیاء و اگرچہ بہت ہوئے میں مر معرفت الہی میں میں بھی کسی سے کم نہیں ہوں میں یقیناً مصطفے کا وارث بن گیا ہوں اور اس میں محبوب کے رنگ میں رنگا گیا ہوں۔وہ یقین جو میٹی کو اس کلام پر تھا ، جواس پر القا ہوا تھا۔اور وہ یقین جو موسٹی کو تو رات پہ تھا وہ بے انتہا یقین جو سرداروں کے سردار رنبی اکرم) کو تھا، میں یقین کے معاملہ میں ان میں سے کسی سے بھی کم نہیں ہوں جو کوئی جھوٹ کہئے لعنتی ہے