درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 104 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 104

۱۰۴ سہرزمانے قبیل تازه بخواست به نمازہ روئے او دم شهداست این سعادت ، چوبود قسمت ما رفته رفته درسید نوبت ما کو بلائے است سینیر هر آنم : صد حین است، در گریبانم آدمم ، نیز احمد مختار : در تبرم جامہ ہمہ ابرار کا رہا ہے کہ کرد ، با من یار برتر آن دفتر است از اظهار آنچه داد است، هر نبی را جام داد آن جام را ، مرا بتمام دِلِ مَن بُرد و الفت خود داد و خود مراشد، بوی خود استاد وخی اورا، عجب اثر دیدم :: رُوئے آل مہر، زمان تم دیدم دیدم از خلق ، رنج و مشروبات : وای چه چیز است، پیش این لذات دیدم از ہجر خلق ، جلوه یار به کار دیگر، برآمد از یک کارت ے ترجمہ : وہ ہر زمانہ میں ایک نیا شہید چاہتا ہے۔اس کے چہرہ کا غازہ شہیدوں کا خون ہی ہے۔یہ عادت بھی چونکہ ہماری قسمت میں تھی اس لئے ہوتے ہوتے ہماری باری بھی آگئی ہیں تو ہر کہ ایک کربلا میں ہوں، اور سیکٹروں میں درجیسے بزرگوں کے مصائب، میرے دل میں ہیں۔میں آدم بھی ہوں اوراحمد مختار بھی۔میں تمام نیکو کاروں کا لباس پہنے ہوئے ہوں وہ حسن سلوک جو محبوب نے میرے ساتھ روا رکھتے ہیں۔وہ دفتر بیان سے بہت بالا ہے (معرفت) کا جو جام اُس نے ہر نبی کو دیا۔وہی لبالب جام اس نے مجھے بھی دیا۔وہ میرا دل لے گیا اور اپنی الفت مجھے دے دی۔وہ اپنی وحی کے ذریعہ خود ہی میرا استاد بن گیا۔میں نے اس کی وحی کی عجیب تاثیر دیکھی یعنی اس چاند کے طفیل میں نے اس سورج کا منہ دیکھ لیا۔میں نے مخلوق سے بہت دیکھ اور ناپسندیدہ چیزیں دیکھیں۔لیکن وہ ان لذتوں کے آگے کیا چیز ہں۔میں نے خلقت سے الگ ہو کر محب کا جلوہ دیکھا۔ایک کام سے ایک اور کام نکل آیا :