درثمین فارسی کے محاسن — Page 91
وحی و الہام حضرت اقدس نے اپنے پاکیزہ کلام میں وحی و الہام کے امکان پر بہت زور دیا ہے، کیونکہ اس زمانہ کی گمراہی اور بے دینی کا ایک بڑا سبب امکان الہام کا انکار ہے جس کی بنیاد کبر اور اپنی عقل پر نانہ ہے اور یہ کبر اور عقل ہی انبیاء اور دوسرے مامورین الہی کو قبول کرنے میں روک بنتے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ حضرت اقدس نے عقل کو ہی وحی و الہام کے لئے شاہد ناطق کے طور پر پیش کیا ہے اور منطقی دلائل کے ذریعہ بھی الہام کی ضرورت واضح فرمائی ہے کیونکہ اسلام اور وحی الہی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔فرمایا :- وحی و دین خداست چون توام یک پو گم شد دگر شود گم ہم نے دور ثمین صن۳۵) لہذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے بعد وحی و الہام کا ذکر کیا جائے۔فرمایا اے M حاجت تو اسے بور ہر چشم را به این چنین افتاد قانون خدا چشم بینا ہے خور تاباں کردید؟ ن کے چینیں چشمے خداوند آفرید؟ چوں تو خود قانون قدرت بشکنی : پس چرا بر دیگراں سرمے زنی ؟ ترجمہ : وحی الہی اور دین خدا دونوں جڑواں چیزیں ہیں پس اگر ایک جاتی ہے ، تو دوسری بھی گم ہو جائیگی۔ترجمہ ہر آنکھ کوروشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔خدائی قانون سی طرح واقع ہوا ہے۔چکنے سورج کے بغیر کھنے والی آنکھ کس نے دیکھی ت با خدا نے ایسی آنکھ کب بنائی ہے۔جب تو نور ہی قانون قدرت کو توڑتا ہے ، تو یہ دوسروں پر کیوں اعتراض کرتا ہے ؟