درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 90 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 90

بچوں گمان کنم اینجا مد د روح قدس که مرا در دل شان دیو نظر می آید این مدد است اسلام چو خورشید میاں : کہ بہر عصر سیحائے دگر می آید ور شمین ماه) یعنی عیسائیو! تمہارا تو صرف دعوئی ہی دعوئی ہے۔اگر سچ مچ روح القدس کی تائیدیں دیکھنا چا ہو تو اسلام میں دیکھو کیونکہ اسلام میں مسیح کے مثیل ہر زمانہ میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔صادق آنست که بقلب سلیم : گرداں دیں کہ بست پاک قویم دین پاک ست ملت اسلام ؛ از خدائیکه هست علمش تام نہیں کہ دیں از برائے آی باشد که ز باطل بحق کشاں بات دله ور ثمین صت) ۴۔پھر حضرت اقدس نے ایک ہی شعر میں دین اسلام کی مکمل تعریف بیان فرما دی کہ : لبس ہمیں فخر سے بود اسلام را ب کو نماید آن جنرائے نام گرا غور فرمائیے! اس سے بڑھ کر کسی دین کی اور کیا تعریف ہو سکتی ہے : ے ترجمہ : میں یہاں (یعنی عیسائی مذہب میں روح القدس کی مد کا گمان بھی نہیں کرسکتا۔کیونکہ مجھے توان کے دل میں شیطان نظر آتا ہے۔روح القدس کی یہ تائیدیں اسلام میں سورج کی طرح عیاں ہیں جہاں ہر دور میں نیا سی نیم لیتا ہے ؟ که ترجمه : راستباز وہ ہے جو خلوص نیت کے ساتھ اس دین کو اختیار کرتا ہے جو پاک اور قدیم ہے۔پاک دین صرف اسلام کا مذہب ہے کیونکہ وہ اس خدا کی طرف سے ہے جس کا علم ہر لحاظ سے مکمل ہے۔کیونکہ دین کی غرض یہ ہوتی ہے کہ انسان کو باطل سے کھینچ کر حق کی طرف لے جائے۔(اور یہ صفت صرف اسلام میں ہے) ہ کے ترجمہ : السلام کو یہی فخر کافی ہے ، کہ وہ کامل خدا کو پیش کرتا ہے :