درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 53 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 53

۵۳ ان بزرگوں کے کلام کا حضرت اقدس کے کلام سے مقابلہ کرنے میں ہرگز ہرگز کسی کی تنقیص مقصور نہیں بلکہ صرف حضرت اقدس کے کلام کی برتری دکھانا مد نظر ہے۔یہ تمام بزرگ جن کے کلام سے یہ نمونے پیش کئے گئے ہیں۔آسمان شہری کے درخشاں ستار سے اور اپنے کردار کی پاکیزگی کی بنا پر بھی مخلوق خدا کے لئے روش شمعیں ہیں۔ان کا کلام اپنی چمک دمک کے لئے بھی کسی کی تعریف کا محتاج نہیں انہیں سول کریم کی ذات سے بھی گہرا انس ہے ، انہوں نے صرف یہی نعتیں نہیں کہیں جن کے اقتباس یہاں پیش کئے گئے ہیں ، بلکہ ان سب کے کلام میں آنحضرت سے عقیدت کے پھول جابجا بکھرے پڑے ہیں اور یہ پھول اتنے خوبصورت اور تر و تازہ ہیں کہ آنکھوں کو طراوت اور کانوں کو فرحت بخشتے ہیں اور سکیں قلب اور تنویر دماغ کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہیں۔اور ان میں فنون بلاغت بھی کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔پھر بھی فَوْقَ كُلّ ذِي عِلمٍ عَليْمُ ریوسف : ) کے مطابق ایک عالم کو کسی دوسرے عالم پر فوقیت ہو سکتی ہے۔اور یہاں تو معاملہ خُدا کے مامور کے کلام کا ہے جو رح القدس کی تائید سے لکھا گیا۔لہذا حضرت اقدس کے کلام میں جو روحانی سرور موجزن ہے، وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے۔چنانچہ حضرت اقدس کا کلام دوسرے بزرگوں کے کلام سے کئی پہلوؤں میں بڑھا ہوا ہے۔یہاں صرف دو تین پہلوؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔اول: آنحضرت صلی الہ عیہ وسلم کو تمام عالم کائنات پر جو بنیادی فضیلت حاصل ہے، وہ عشق اپنی ہے۔آپ ان بزرگوں کے مندرجہ بالا اقتباسات بار بار بغور ملاحظہ فرمائیے۔آپ کو ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عشق کی آگ کا ذکر کہیں نہیں ملے گا۔ان کے کلام میں بعض دوسری جگہوں پر اس سوز عشق کی طرف اشار سے تو ضرور ملتے ہیں لیکن حقیر اقدس کے کلام کے سوا اس آگ کا ذکرہ جو آنحضرت کے قلب میں شعلہ زن تھی بالاستیعاب اور کہیں نہیں ملے گا پیچ ہے : 8 جس تن لاگے سو تن جانے یہ سعادت صرف اور صرف حضرت مسیح موعود کو حاصل ہوئی کہ آپ نے رسول کریم کی