درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 286 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 286

۲۸۶ ۳۹۔ترک دنیائے دوں بیگلی کی بیخ نفس شقی بر آر زین ۴۰ - دنیا کو مکمل طور پر چھوڑ دے ، اور بد بخت نفس کی جڑ نیچے سے اکھاڑ پھینک۔عاشق زار در همه گفتار به سخن خود کشد بجانب یار عاشق بیچارہ ہر بات چیت میں گفتگو کا رخ محبوب کی طرف پھیر لیتا ہے۔ام ہے تو شوق گریستنی دارم به این چنینی شغل زیستن دارم تیرے بغیر صرف رونے سے دلچسپی ہے، گویا میری زندگی کا مصرف یہی ہے۔بر زبان گفتگوئے زہد و عفاف : کا رہا جملہ بدتر از اجلاف زبان پر توپر ہیز گاری اور پاک بانی کی باتیں ہیں، اور کام سب کمینے لوگوں سے بھی بدتر۔سالک اول بود بخامی کار + گاہ غرق و گیے فت ربکنار طالب حق تشروع میں اپنے کام میں کچا ہوتا ہے، کبھی غوطے کھاتا ہے اور کبھی کنا سے اگتا ہے۔۔۴۲ ۴۴ بازه نادم شود نشستی دیں ؛ عہد بند د برائے ہر آئیں پھر مذہب کے متعلق اپنی کوتاہی پر نادم ہوتا ہے ، اور نئے سرے سے ہر حکم کی تعیل کو نیا عہد کرتا ہے۔تشمعید الاذہان جنوری منشار) الهامی ۴۵ سپردم بتو مایه خویش را با تو دانی حساب کم و بیش را - وم - میں نے اپنی پونچی امینی سب کچھ ہیں، تیرے سپرد کردی یکم ہے یازیادہ اسکا حساب تو ہی جانتا ہے۔یہ شعر نظامی گنجوی کا ہے) ( تذکره ) زدرگاه خدام دے بصد اعزاز سے آید البانی مبارک باد سے مریم کہ عیسے بازمے آید بارگاہ الہی سے ای انسان کامل بڑی عزت و اکرام سے آرہا ہے ، اسے مریم تجھے مبارک ہو کر عینی پھر آرہا ہے۔(تذکره مشته)