درثمین فارسی کے محاسن — Page 180
فاسقان در سیاه کاری اند : عارفان در دعا و زاری الله ور تمین فت) مراعاۃ النظیر ! جسے تناسب بھی کہتے ہیں۔یہ ہے کہ کلام میں متناسب اشیاء جو متضاد و متقابل نہ ہوں ذکر کریں جیسے : ے بازخند و بناز لاله و گل ! : باز خیزد ز گیلان غلفل دو تین منت رسید مترده که ایام نوبهار آمد و زمانه را خبر از برگ بار خود بکنم۔نهایست از بارغ قدس و کمال : ہمہ آل او ہمچو گل ہائے آل ز ہے نحو آن بود نحو سداد : همه منطقم صرف آن نحو باد فصل بهار و موسم گل نایدم بکار با کاندر خیال روئے تو بردم بگشتم KAY۔دو تین ط در ثمین ص۳) دور زمین (۳۵) ور در همین مشا ے ترجمہ : بدکار لوگ بڑے کاموں میں مشغول ہیں، عارف لوگ دُعا اور زاری میں مصروف ہیں۔سے ترجمہ : پھر لالہ اور گلاب ناز سے بننے لگے، اور پھر بلبلیں چہچانے گی ہیں۔مجھے خوشخبری ملی ہے کہ موسم بہار پھر آ گیا ہے۔تاکہ میں زمانہ کو اپنے برگ وبار سے آگاہ کروں۔وہ پاکیزگی اور کمال کے باغ کا درخت ہے۔اس کی سب آل گلاب کے پھولوں کی طرح ہے۔واہ وا اس کا علم نحو کیا اچھا پہلو لئے ہوئے ہے۔خدا کرے میری ساری منطق اس پر خرچ ہو جائے فصل بہار اور پھولوں کا موسم میرے لئے دونوں بیگانہ ہیں کیونکہ میں تو ہر وقت تیرے چہرے کے تصور سے باغ میں ہوں۔