درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 175 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 175

160 صنائع معنوی توریہ سے مراد کلام میں ایسے لفظ کا آنا ہے جس کے معنی ہوں اور وہاں دونوں چسپاں ہوتے ہوں۔جیسے :- زہ ہے انجو آن بود نحو مداد نا ہمہ منطقم صرف آن نوبات دور ثمین ۳۱۵ ) منطق کے دو معنی ہیں۔ایک مطلق کلام، بات چیت یا گفتگو۔اور دوسرے علم منطق اور دونوں یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔اسی طرح نحو کے بھی دو معنی ہیں۔پہلی جگہ علم خو اور دوسری جگہ پہلو۔اور دوسرے مصرع میں آں نحو کا اشارہ مصرع اول کے دونوں نحو کے الفاظ میں سے کسی ایک کی طرف ہو سکتا ہے۔لہذا اس تیسرے نحو کے دونوں معنی وہاں چسپاں ہوتے ہیں۔یعنی وہ علم نخویا وہ پہلوئے سداد - دیر "صرف" کا لفظ بھی ابہام تناسب کی مثال ہے جس کے لئے آگے دیکھیئے )۔ابہام تناسب یہ ہے کہ کلام میں ایسا لفظ آئے جس کے دو معنی ہوں۔ایک قریب اور ایک بعید۔پہلے ذہین معنی قریب کی طرف مائل ہو، لیکن غور کرنے سے معلوم ہو کہ یہاں معنی بعید مراد ہیں۔اس کی دو قسمیں ہیں۔ایک ابہام مجرد اور ایک ابہام مرشح۔ابہام مجرد : میں قریب کے معنوں کے مناسبات مذکور نہیں ہوتے جیسے ۲۲۸ جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عیاں شد آن ذکات در شین منت ) در سے ترجمہ واہ وا ا سکی خوی چینی اور راستی کا پہلوئے ہوئے ہے۔میری ساری منطق اس نحو پر صرف ہو۔نے ترجمہ : میری روح اس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریبان سے وہی سورج نکل آیا۔