درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 165 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 165

IMA وجہ جامع وغیرہ لیکن یہاں ان سب کے بیان کی ضرورت نہیں۔استعارہ بالتصریح کی مثالیں دیکھئے :- شیری پر ہیبت اند رب جلیل : دشمنان پیشش چو روباه ذلیل ہے (در ثمین ) یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مستعار ا متروک دیں اور شیر حق مستعار منہ مذکور ہے۔وجہ جامع شجاعت ہے جو دونوں میں مشترک ہے۔اور شیر میں زیادہ نمایاں ہے۔قرینہ اس سے پہلے اشعار ہیں سے عمارت مد و نان خارجی هم ساخت : اگر چشم روان آبشار خود بنت YAY دور همین ۲۸) یہاں آنسوؤں کی لڑیاں مستعار لہ ہیں جومذکور نہیں اور ابشار جومستعار منہ ہے مذکور ہے سے بدین محمد بستن دل خود خطا است به که این تیمن دین و صدق و صفا است سه د در تمین ) یہاں دنیا مستعار لنز کو جو د کور نہیں بعینہ تجبر مستعار منہ) قرار دیا گیا ہے۔وجہ جامع ذلت ہے جو دونوں میں مشترک ہے۔لیکن قحبہ میں بہت نمایاں ہے۔ر اسی طرح مندرجہ ذیل اشعار میں تمام خط کشیدہ الفاظ البطو مستعار منه، آنحضرت صلی الله علیہ وسلم (مستعارہ کے لئے آئے ہیں۔جن کا ان اشعار سے پہلے اشعار میں ذکر چلا آرہا ہے اسے آفتاب است و گند چون آفتاب : گرنه کوری بیا بنگر شتاب در زمین ۱۳ لیے ترجمہ :۔وہ جو خدا کی طرف سچائی کا پر ہیبت شیر ہو ، دشمن اس کے سامنے ذلیل لوسٹری کی طرح ہوں۔کے ترجمہ:۔میں ان سب کی عمارت کو برباد کر دوں اگر میں اپنی آنکھوں سے آبشار جاری کروں۔کے ترجمہ :۔اپنا دل اس آوارہ عورت سے لگانا غلطی ہے، کیونکہ وہ دین اور صدق وصفا کی دشمن ہے۔کے ترجمہ:۔وہ خود افتاب ہے اور دوسروں کو آفتاب کی طرح بنا دیتا ہے، اگر تو اندھا نہیں تو جلدی اور دیکھا ہے۔