درثمین فارسی کے محاسن — Page 133
ره طلب کن بگریه و زاری : تا بجوشد ترقیم باری در ثمین ۳۲۵) ان کا یہ گرد از دیئے جو جانتے ہو میرے کندالی کارنے بارے زبانے مجید دارم نر ستے کہ دستے عاشقش باشد : بگرداند جهانی راز بہر کار گریانے اگر جنید لب مردے زہر آنکه سرگردای خدا از آسمان پیدا کند بر نوع سیامانے زکارافتاده را برای ار خدا می ره با همین باشد دلیل آن است از خلق پنهانی ۹ - کبر اور عقل سے احتراز دور ثمین ۲۳۳ و ۲۴۵) عرفان الہی کے حصول میں بڑی روکیں دو ہیں۔ایک تکبر اور دوسری عقل کی بھی انسان عقل کی وجہ سے مفرور ہو جاتا ہے۔اور کبھی مفرور ہونے کی وجہ سے عقل پر ناز کرنے لگ جاتا ہے۔بہر کیف ہر دو بھاری پتھر ہیں۔جن کو راستہ سے ہٹائے بغیر انسان عرفان الہی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : اے ترجمہ : تو گریہ و زاری سے راستہ تلاش که تا خدا کا ریم جوش مارے۔لے ترجمہ جو کام اس شخص کی دعا سے ہو سکتا ہے جو محبوب حقیقی میں محو ہے۔وہ کام نہ تلوار کر سکتی ہے، زہوا اور نہ ہی بارش۔خدا کے عاشق کے دست دعا میں عجیب اللہ ہوتا ہے۔وہ کسی چیشم پر آب سائل کے لئے ایک جہان کو گردش میں لے آتا ہے۔اگر مردخدا کے ہونٹ کسی سرگردان کی خاطر دعا کے لئے ہیں ، تواس کے لئے اللہ تعالی آسمان سے ہر قسم کا سامان ہیا کر دیتا ہے۔ایک بے کار شخص کو وہ دکھا کے وزیع پر سیر روزگار کر دیتا ہے۔اس خدا کے جولوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہے، موجود ہونے کی یہی دلیل ہے :