درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 129 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 129

اں یقیں جو کہ آتش افروزد : پرچه غیر هندا همه سوزد ہمہ از یقیں ست زید و عرفاں ہم : گفتمت آشکار و پنہاں ہم بنز یقیں، دین تو چور مُرداری 4 سر پر انہ کبرو ، دل ریا کار ہے بے یقیں انفس گرودت چو سگے بے جنبدش، نزد ہر فساد ، رگئے د در ثمین ص۳۶۲) ہمچو کرمی ، بجز کلام خدا و مُرده هستی ، بغیر جامِ خدا اں یقینے ، کہ بخشدت دادار : چون خیال خودت نهد بکنار آن یکے ، انردبان دلداری : نکتہ ہائے شنید و اسرائے وای دگر، از خیال خود بگمان : پس کجا باشد، این دو کس یکساں ذوق ایں تھے ، چو تو نمے دانی ہے ہرزہ ، عوعو کنی، بنا دانی آن خدادان، که خود و یک آواز : نه که از و هم کس نماید باز واجب أمد الذي ، بہر دوراں : کہ تکلم کند خدائے یگانه در ثمین ۳۵۸۳۵۶) لے ترجمہ : وہ یقین ڈھونڈ جو آگ لگا ہے اور جو کچھ خدا کے سوا ہے اس کو جا ڈالنے پر ہیزگاری اور معرفت یقین سے ہی رہتی ہیں میں نے ہر بات تجھے آشکار ابھی بتائی ہے اور پوشیدہ بھی یقین کے بغیر تیرا دین ایک لاشہر بے جان کی طرح ہے۔ستر نخجیر سے بھرا ہوا ہے اورول ریا کاری میں مبتلا ہے یقین کے بغیر ترانس کتے کی ماند بن جاتا ہے اور سردی برای رگ اشرارت بھڑک اٹھتی ہے۔کے ترجمہ : خدا کے کلام کے بغیر تو ایک کپڑے کی خرج ہے۔اور خدا کے جام (وصل کے بغیر تو ایک مردہ ہے۔وہ یقین جو خدا عطا کرتا ہے۔تجھے خیالی گھوڑے دوڑانے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ایک شخص مجبور کے منہ سے لطف اور رانہ کی باتیں سنتا ہے۔اور دوسرا خود ہی خیالی پلاؤ پکا رہا ہے۔یہ دونوں شخص کسی طرح برابر ہو سکتے ہیں۔تو چونکہ اس شراب کی لذت سے واقف نہیں۔اس لئے رکھتے کی طرح) فضول بھونکتا رہتا ہے۔خدا صرف اسے سمجھو جو خود آواز دے۔نہ کرکسی کے قیاس سے وہ دکھائی ہے۔اسلئے ہر زمانہ میں لازم ہے، کہ خدائے واحد خود ہی کلام دکر کے اپنی ہستی ظاہر کرے ؟