درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 128 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 128

۱۲۸ برسند غرور نشستن طریق نیست و این نفس دوں بسوز ونگا سے رو چجو در ثمین منن ) خدار است آن بسندگان گرامی که انه مهرشان می کند صبح و شام بدنبال چشمے چومے بنگرند : جہانے بدنبال خود می کشند اثر باست در گفتگو ہائے شاں : چکد نور وحدت زرو ہائے شاں در اورشان به اظهایه هر خیر وشر : نها دست حق خاصیت مستتر بگفتن اگر چه هندا نیستند ؛ ولی از خدا هم جدا نیستند - یقین کامل دور ثمین ص۳۲۲ اسے کہ تو طالب خدا ہستی ہے آئی یقیں جو کہ بخشدت مستی اں یقیں جو ، کہ سیل تو گردد ہے ہمہ دریار ، میل تو گردی سے ترجمہ : غرور کی مسند پر بیٹھنا صحیح راستہ نہیں۔اس ذلیل نفس کو جل کر راکھ کر ے اور اس میں محبوب کو تلاش کر۔سے ترجمہ : خدا کے بزرگ ہندسے ایسے بھی ہیں جن کی خاطرہ صبح اور شام کو پیدا کرتا ہے۔جب وہ کن اکھیوں سے دیکھتے ہیں تو ایک جہان کو اپنے پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔ان کی باتوں میں الہ ہوتا ہے، ان کے چہروں سے وحدت کا نور ٹپکتا ہے۔ان میں نیکی بدی کے اظہارہ کے لئے خدا نے ایک محقتی خاصیت رکھ دی ہے۔اگرچہ ہم انہیں خدا نہیں کر سکتے لیکن وہ خدا سے جُدا بھی نہیں ہیں۔سے ترجمہ : اسے کہ تو جو خدا کا طالب ہے ، وہ یقین تلاش کر جو تجھے ہے نود بنا دے۔وہ یقین ڈھونڈ تہ تیرے لئے سیلاب بن جائے اور تجھے خدا کی طرف بہا کہ سے جانے۔