درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 108 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 108

عجب مدار، اگر خلق سوئے ما بد وند ہے کہ ہر کجا کہ غنی سے بود ، گدا باشد گئے کہ روئے خزاں را کے نخوابد دید ببارغ ماست، اگر قسمت رسا باشد منم مسیح ، ببانگ بلند می گوئیم : منم خلیفہ شاہے کہ برسما باشد ۴۔کچھ آگے چل کر فرمایا : ہے در ثمین ص۲۶) کیسے کہ سایہ بال ہماش ، سود نداد : با یک کش که دو روز سے بظل ما باشد مسلم است مرا از خدا حکومت عام یه که من مسیح خدایم که بر سما باشد بدین خطاب، مرا ہرگز التفات نبود : چه جرم من چو چنین محکم از خدا باشد تاج و تخت زمین آرزو نے دارم به نه شوق افسر شاہی بدل مرا باشد سرالیس است که ملک سما بدست آید که فلک ملک زمین را بقا کجا باشد؟ خواتم لینک کرده اند، روز نخست با گنوں نظر بمتابع زمین چرا باشد مرا که جنت علیاست مسکن و ماوا : چرا بمز بکر این نشیب جا باشد؟ ے ترجمہ و عجیب مت کر اگر لوگ دوڑ کر ہماری طرف آئیں کیونکہ جہاں ہیں کوئی دولتمند ہو گا گرو ہی جمع ہوتے ہیں جو پھول کبھی خزاں کا منہ نہیں رکھے گا وہ ہمارے باغ میں ہے۔اگرتیری قسمت اور ہوئیں بلندآواز سے کہتا ہوں کہیں بنی ہی ہوں اور میں ہی اس بادشاہ کا خلیفہ ہوں جو آسمان پر ہے۔سنہ ترجمہ : وہ شخص جسے ہما کے پر کے سایہ نے بھی کوئی فائدہ نہ پہنچایا ہو اسے چاہیئے کہ چند ہارے زیر سایہ ہے۔مجھے خدائی فر سے عمومی حکومت پر ہوئی کیو کریں اس خدا ایسی ہوں جو آسان پر ہے مجھے اس خط کا ہرگز کوئی شوق نہیں تیرا کیا قصو ہے جبکہ خدا کی طرفسے ایسا ہی حکم ہے مجھے زمینی تاج وتخت کی کوئی خواہش نہیں۔نہ میر ول می کسی شاہی تاج کا شوق ہے۔میں لئے یہی کافی ہے کہ آسمانی بادشاہت ہاتھ آجائے کونکہ زمینی بادشاہ اور جائیدا کو بتا کہاں ہے مجھے راول سے ا لایاگیا ہے ایران کیوں ہو یا مسکن اوجانا جاتا ہے اور انسانی جنگ کی کور میں کیوں ہو؟