درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 92 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 92

آنکه در سر کارت و حاجت روا ہے چوں روادری که نبود رہنما آنکه اسپ و گاو خر را آفرید به تا رید گشت تو از بار شدید چون ترا حیران گذار د در معاد : اے عجب تو عاقل این اعتقاد چون دو چشمت داده اند سے بیخبر : پس چرا پوشی کے وقت نظر؟ آنکه زو ہر قدر تے گشتہ عیاں : قدرت گفتار چوں ماندے نہاں آنکه شد هر وصف پاکش جلوه گر : پس چرا این وصف ماند نے مستر هر که او غافل بود از یاد دوست : چاره سازی فلش پیغام اوست تو عجب داری نه پیغام خدائے : این چه عقل و فکر تست آن خود نما؟ لطف اوچون خاکیاں را عشق دار : عاشقان را چون سیفگندے زیاد عشق چون بخشید از لطف اتم : چوں نہ بخشیدے وائے آں الم ؟ خود بو کرد از عشق خود دلها کباب بے چوں نہ کر دے از سر رحمت خطاب له ے ترجمہ: وہ خدا جوانسان کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے تو تو کسطرح جائز بجھتا ہے گروہ دین کے مار میں رہنمائی نہیں کرے گا۔وہ تے گھوڑے گئے گر سے کو پیدا کیا، تاتیری پیٹھ کوسخت و جہ سے نجات دے۔وہ تجھے آخر کے علم میں کیوں پریشان چوری گا تعجب ہے کہ عقلمند ہوتے ہوئے تیرا ی اعتقاد ہے۔اے ہجر جب تجھے دو آنکھیں دی گئی ہیں تودیکھنے کے وقت ایک کیوں بند کر لیتا ہے۔وہ ذات جس ہرقسم کی قدرت ظاہر ہوئی تو بولنے کی قوت کی طرح مخفی رہ سکتی تھی۔وہ ہستی جس کی ہر پاک صفت ظاہر ہوگئی، اس کی یہ صفت کس طرح چھپی ریاستی تھی ، شخص و دوست کی یاد سے غافل ہوا تو دوست کا پیغام ہی اس کی غفلت کا علاج ہوتا ہے تو خدا کے پیغام وتعجب کرتا ہے۔اے تک تیری عقل اورمجھے کسی ہے اسی مہربانی نے جب مٹی کے پتوں کو بھی عشق عطا کیا ہے وہ اپنے عاشقوں کو کس طرح فراموش کرتا۔جب اس نے کمال مہربانی سے عشق کا در عطا کیا ہے تو پھر اس دردو کی دوا کیوں نہ عطاکرتا جب اپنے خود ہی اپنے عشق سے ہمارے دلوں کوکباب کیا ہے تو مال مہربانی سے میں مخاطب کیوں نہ کرتا۔