درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 89 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 89

نماید از ان گونه راه صعف به که گردد به صدقش خرد رهنما همه حکمت آموزد و عقل و داد به ر کاندیز هر نوع جهل و فساد نداره دیگه مثل خود ، در بلاده خلافش طریقے ، کہ مشلش مباد حصولش که بست آبی مداره سنجات : چو خورشید تا بد بعیدق و ثبات اصول دگر کیش ہا ، ہم عیاں ہے نہ چیز ہے کہ پوشیدنش مے تو ای اگر نامسلمان خبر داشت : بیجان جنس اسلام نگذاشتے د در ثمین ص ۳۵۷۳۲) آپ اس اقتباس پر بھی اور دوسرے اقتباسات پر بھی اچھی طرح غور فرمائیے۔آپ کو معلوم ہو گا کہ حضرت اقدس کا کلام پڑھتے وقت الفاظ بڑی آسانی کے ساتھ زبان سے ادا ہوتے چلے جاتے ہیں۔کہیں ذرا بھر بھی رکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔پھر الفاظ ایک دوسرے سے پوری طرح مربوط اور متوافق ہیں۔گویا وہ ایسا دریا ہے جس کی برق رفتاری کے باوجود سطح بالکل ہموار رہتی ہے الفاظ میں کہیں معمولی سا بھی تناضر نہیں پایا جاتا۔اس کو علم بلا بخت میں روانی کہتے ہیں۔عیسائیوں نے روح القدس کو اپنی اقوم ثلاثہ کا ایک فرد قرار دے رکھا ہے اور ان کا ادعا یہ ہے کہ وہ ان کی مدد کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہتا ہے۔تشکیت کا ایک اور رکن حضرت مسیح ہیں جنہیں خُدا کا بیٹا قرار دیا جاتا ہے۔حضرت اقدس اس بارہ میں فرماتے ہیں : سے رامه ترجمه ماه یہ دین اس طرح پاکیزگی کا راستہ دکھاتا ہے کہ عقل بھی اس کی سچائی پر گواہی دیتی ہے۔یہ سراسر حکمت عقل اور انصاف کی تعلیم دیتا ہے اور ہر قسم کی جہات اور خرابی سے بچاتا ہے۔اس جیسا مذہب دنیامیں اورکوئی نہیں۔اسکے مخالفت جو بھی طریقہ ہے خدا کرے وہ نابود ہو جائے۔اس کی اصولوں پر مدا نجات میں وہ اپنی سچائی اور پختگی میں سورج کی طرح چمکتے ہیں۔دوسرے مذاہب کے اصول بھی ظاہر ہیں۔کوئی کوشش انہیں چھیپا نہیں سکتی۔اگر کسی غیر مسلم کو اسلام کی خوبیوں کا علم ہو جائے تو بخدا جان قربان کر کے بھی وہ اس دوست کو حاصل کر نے کی کوشش کرے گا۔