احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 45
45 کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی اور پھر وہ وقت آیا کہ اللہ تعالی نے گویا چھپر پھاڑ کر MTA کا یہ عظیم عالمگیر تحفہ کچھ اس انداز میں اچانک مہیا کر دیا کہ کسی کو بھی اسکی توقع نہ تھی۔اس انعام پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا: اسمعوا صوت السماء جاء المسيح جاء المسيح کہ آسمان کی آواز سنو جو یہ اعلان کر رہی ہے کہ مسیح آگیا۔مسیح کا ظہور ہو گیا۔آپ کا یہ اعلان ان آسمانی نشانوں سے متعلق تھا جو پے در پے ظاہر ہو کر آپ کی سچائی کا اعلان کر رہے تھے لیکن دیکھو کہ خدائے ذوالمنن نے کس طرح اس بات کو لفظا اور معناً بھی حقیقت بنادیا کہ آج سارے عالم اسلام میں صرف ایک جماعت احمدیہ ہے جس کا اپنا ایک مستقل ٹیلی ویژن سٹیشن ہے جو ۲۴ گھنٹے دنیا کی مختلف زبانوں میں اسلام واحمدیت کا پیغام نشر کر رہا ہے۔آج روئے زمین پر کوئی ایک گوشہ بھی ایسا نہیں جہاں توحید کی یہ منادی سنائی نہ دیتی ہو۔خدائے رحمن کا کتنا کرم ہے کہ آج دنیا میں کسی اور مذہب کا کوئی ایسا نشریاتی ادارہ نہیں جس کی آواز ساری دنیا میں جاتی ہولیکن خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے قائم کردہ اس جماعت احمدیہ کا یہ ٹیلی ویژن ایسا ہے جس کی آواز دنیا کے چپہ چپہ میں سنائی دیتی ہے اور قریہ قریہ بستی بستی توحید کی منادی ہورہی ہے۔لوگ پوچھتے ہیں کہ میں کہتا ہوں اے دنیا کے بسنے والو! اے جزائر کے رہنے والو! اے جنگلات کے باسیو! اٹھو اور اپنے ٹیلی ویژن ON کر کے اس آسمانی آواز کوسنو جو آج تمہارے گھروں میں پہنچ چکی ہے اور تمہیں اس خدا کی طرف بلا رہی ہے جس کو تم بھول بیٹھے ہو۔سنو ، اس مسیح الزمان کی آواز کو سنو جو تمہیں اسلام کی طرف بلا رہا ہے۔تمہیں سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دے رہا ہے۔ہاں یہ وہی آواز ہے جو ایک زمانہ میں قادیان سے اٹھی اور