احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 59
59 ہیں جن کو ان کے والدین نے ان کی ولادت سے قبل وقف کیا اور خدمت دین کی غرض سے جماعت کے سپرد کر دیا۔خلیفہ وقت نے ۱۹۸۷ میں پانچ ہزار واقفین نو کی خواہش ظاہر فرمائی۔احمدی والدین نے والہانہ طور پر اس تحریک پر لبیک کہا اور آج ان مجاہدین کی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۲۶۳۲۱ تک پہنچ چکی ہے! خدا کی راہ میں زندگیاں وقف کرنے کا یہ سلسلہ در سلسلہ نظام بھی ایک اور عطائے عظیم ہے جو احمدیت نے دنیا کو دی۔کوئی بتائے کہ اس طرح اپنا سب کچھ دیکر جنت کے خریدار دنیا میں اور کہاں ہیں؟ قبولیت دعا کا عرفان اور تجربہ قبولیت دعا اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایک ثبوت بھی ہے اور مومنین کے ازدیاد ایمان کا ذریعہ بھی۔احمدیت نے اہل دنیا کو یہ نوید سنائی کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے جو بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے ان کا جواب دیتا ہے اور پھر قبولیت دعا کے شیریں ثمرات عطا کرتا ہے۔جس تحدی جلال اور یقین کے ساتھ احمدیت نے اس بات کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور جس کثرت اور تواتر سے عالم احمدیت میں قبولیت دعا کے زندہ نشانات ظاہر ہوئے اور ہوتے چلے جا رہے ہیں اس کی مثال ساری دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔احمدیت ہی نے دنیا کو قبولیت دعا کا حقیقی عرفان عطا کیا اور اسکی تازہ بتازہ تجلیات کے نمونے اس کثرت سے دکھائے کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔حق یہ ہے کہ آج دنیا میں کوئی احمدی خاندان ایسا نہیں ہوگا جس نے بالواسطہ یا بلا واسطہ قبولیت دعا کا مشاہدہ یا تجربہ نہ کیا ہو۔دعا پر سچا یقین اور قبولیت دعا کا ذاتی تجربہ تو گویا ایک احمدی کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔