احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 43
43 اور گھر گھر جا کر بھوکے افراد کو کھانا اور بچوں کو دودھ مہیا کرتی ہے۔یہ ساری خدمت کسی شہرت کے لئے نہیں کرتی، نہ کسی دنیوی جزا کے لئے محض رضاء باری کی خاطر کہ یہی اسلام کی تعلیم ہے اور یہی احمدیت کا شعار ہے۔جماعت احمد یہ ایک دینی اور روحانی جماعت ہے۔اس کا مقصد ساری دنیا والوں کو خدا تعالی کی طرف بلانا، اسلام کی دعوت کو اکناف عالم تک پہنچانا اور نبی نوع انسان میں ایک پاکیزہ انقلاب بر پا کرنا ہے۔ان مقاصد عالیہ کے ساتھ ساتھ جماعت اپنے محدود وسائل کے ذریعہ حتی الامکان بنی نوع انسان کی علمی، سماجی اور جسمانی فلاح و بہبود کے لئے دن رات سرگرم عمل رہتی ہے کہ یہ بھی دین اسلام کا حصہ ہے اور خدا کی نظر میں پسندیدہ۔دنیا کے وہ ممالک جن میں تعلیمی اور طبی سہولتوں کا فقدان یا کمی ہے ان ممالک میں جماعت احمدیہ نے اس خدمت کا علم سالہا سال سے بلند کر رکھا ہے اور بلا امتیاز مذہب وملت، نبی نوع انسان کی کچی اور بے لوث خدمت کے جذبہ سے سرشار، ہر میدان میں مصروف عمل ہے۔جہاں تک اعداد وشمار کا تعلق ہے۔اس وقت دنیا کے ۱۷۶ ممالک میں جماعت مستحکم طور پر قائم ہو چکی ہے۔۱۳۲۹۱ مساجد تعمیر ہو چکی ہیں۔اس روحانی فیض رسانی کے ساتھ ساتھ اس وقت جماعت کی طرف سے ترقی پذیر ممالک میں ۳۷۳ سکول اور ۵ کالج جاری ہیں جو لاعلمی کی تاریکیوں میں علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔اسی طرح ۳۶ ہسپتال جاری ہیں جہاں غرباء کو بلا معاوضہ طبی سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں۔خدمت خلق کے میدان میں ایک اور عظیم خدمت جو جماعت احمدیہ نے بالخصوص خلافت رابعہ کے دور میں سرانجام دی وہ ہو میو پیتھی کے ذریعہ ساری دنیا میں اس مفید اور مؤثر ذریعہ علاج کے علم کا عام کرنا ہے۔اس کا سہرا حضرت خلیفہ المسیح الرابع