احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟

by Other Authors

Page 42 of 64

احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 42

42 بھی بخل سے کام نہیں لیا کیونکہ بخل اور تنگ نظری اس جماعت کے خمیر میں شامل ہی نہیں۔جماعت احمد یہ تو ساری دنیا کی ایک خادم جماعت ہے۔ایک بے لوث خادم، ایک انتھک خدمت گزار جماعت، جو اس اصول پر سر گرم عمل ہے کہ " محبت سب کے لئے۔نفرت کسی سے نہیں“ پس اس جماعت نے اپنی ہر چیز دنیا کو دی۔ہر وہ نعمت جو خدا نے اسے عطا کی اسکو بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے وقف رکھا۔تاریخ احمدیت اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی خدمت کا کوئی میدان نظر آیا جماعت احمدیہ کے سرفروش ہمیشہ بے لوث خدمت کے جذبہ سے، بلا امتیاز مذہب وملت ، اس میدان میں کود پڑے۔جماعت کی تعداد کم اور وسائل محدود۔مالی لحاظ سے جماعت کسی حکومت سے نہ کبھی کوئی مدد لیتی ہے نہ اسکی طالب۔اسکی ساری پونچی تو وہ چندے ہیں جو اس جماعت کے جانثار بڑی محنت سے کمائی ہوئی آمد میں سے، اپنا پیٹ کاٹ کر، اپنی ضروریات کو پس پشت ڈالتے ہوئے جماعت کی جھولی میں ڈالتے ہیں۔اس کم مائیگی کے باوجود خدمت خلق کے میدان میں ہر جگہ یہی جماعت دن رات سرگرم عمل نظر آتی ہے۔افریقہ کے کسی ملک میں فاقے اور قحط سالی کا امتحان ہو۔گجرات میں زلزلہ کے متاثرین کی ضرورت ہو۔پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کا سوال ہو یا جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں زلزلہ سے بے گھر ہونے والوں کو کھانا مہیا کرنے کا موقع ہو، جماعت احمدیہ کے رضا کار خدمت کا علم اٹھائے ،سر جھکائے ، خدمت میں مصروف نظر آتے ہیں۔جماعت کی عالمگیر رفاہی تنظیم Humanity First کسی جگہ پیاسے لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرتی ہے تو کسی جگہ آنکھوں سے معذور لوگوں کو نورِ بصارت کا تحفہ دیتی ہے، جن کے اعضاء کاٹ دیئے گئے ان کو مصنوعی اعضاء مہیا کرتی ہے بے خانماں لوگوں کے گھر بناتی ہے