احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 28
28 صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف، میں عافیت کا ہوں حصار نظام جماعت ہمارے آقا ومولیٰ حبیب خدا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ جب آخری زمانے میں مسلمان 73 فرقوں میں بٹ جائیں گے تو ان میں صحیح راستہ پر گامزن ایک خوش نصیب فرقہ کو ہم کس طرح پہچان سکیں گے؟ صاحب جَوَامِعُ الْكَلِمِ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشکل سوال کا جواب صرف دو لفظوں میں دیدیا۔فرمایا: وهي الجماعة (مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۱۰۲ مطبوعه بيروت وسنن ابن ماجه کتاب الفتن باب افتراق الامم۔دارالکتب العلميه بيروت) خوب کھول کر سن لو کہ جنتی فرقہ کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایک جماعت ہوگی۔نام بھی جماعت اور کام بھی جماعت۔جماعت کے لفظ کی خوبی اس میں ہوگی۔اس ایک لفظ میں پہچان کی کنجی ہے۔جماعت کا لفظ ایسی متحد اور منظم جمعیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بنیان مرصوص ہو، جس کا ایک واجب الاطاعت امام ہو اور جماعت کا ہر فر د نظام کے ساتھ پوری طرح منسلک ہو۔آج دنیا کے پردہ پر اگر یہ کیفیت کسی اسلامی گروہ پر صادق آتی ہے تو وہ صرف اور صرف جماعت احمد یہ ہے اور یہی وہ تصویر جماعت اور نظامِ وحدت اور منظم نظامِ جماعت ہے جو جماعت احمدیہ نے مسلمانوں کی پراگندگی کے اس دور میں ان کو عطا کیا ہے۔جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم نے نظام خلافت عطا کیا ہے جو عـلـى منهاج النبوۃ قائم ہے۔خلیفہ خدا