احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 58
58 مظالم کا نشانہ بنائے گئے لیکن تبلیغ کا علم ہر حالت میں سر بلند رکھا۔یخ بستہ جیلوں میں ڈال کر ان کے سامنے سور کا گوشت رکھا گیا۔موت کو ٹالنے کے لئے روٹی کے چند ٹکڑے پانی میں بھگو کر انہی پر گزارہ کرتے رہے۔ایسی ایسی زہرہ گداز داستانیں ہیں کہ بدن پر کپکی طاری ہو جاتی ہے۔یہ سب کچھ ہوا، لیکن احمدیت کے یہ مجاہد سپوت ہر حالت میں اسلام کی منادی کرتے رہے۔یه داستان عشق و وفا یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو شادی کے بعد جوان بیوی کو اکیلا چھوڑ کر دیار غیر چلے گئے۔عرصہ کے بعد واپسی ہوئی تو جوان بیوی پر بڑھاپا چھا چکا تھا۔کچھ وہ بھی تھے جو چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر گئے سالہا سال کے بعد واپس آئے تو خود اپنے بچوں کو بھی پہچان نہ سکے۔ہاں ان مجاہدین میں ایسے وفاشعار بھی تھے کہ اپنے بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر تبلیغ کے لئے روانہ ہوئے اور پھر دیار غیر میں ہی خبرسنی کہ والدین اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔کچھ ایسے جانباز مجاہد بھی تھے جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اعلائے کلمہ اسلام کے لئے رخصت ہوئے اور پھر کبھی وطن لوٹ کر نہ آسکے۔اسی جہاد کبیر میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور آج بھی وہی سرزمین ان کی آخری آرام گاہ بنی ہوئی ہے۔جانثاری کی یہ داستانیں، قربانی کے یہ بچے واقعات اور عشق و وفا کے یہ زندہ نمونے اس دور میں صرف احمدیت میں نظر آتے ہیں۔جانثاری اور سرفروشی کی یہ داستانیں صرف اسی حد تک نہیں بلکہ ایسے مجاہدین بھی اللہ تعالیٰ نے احمدیت کو عطا کئے ہیں جو ریٹائر منٹ کے بعد آخری دم تک جماعتی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ایسے ڈاکٹر ہیں جو سالہا سال تک طبی میدان میں انسانیت کی خدمت کرتے ہیں ایسے اساتذہ ہیں جو علم کی روشنی سے دنیا کو منور کرتے ہیں اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے واقفین نو کی ایک عظیم فوج میدان عمل میں جانے لئے تیار ہو رہی ہے۔یہ وہ ننھے منے اسلام کے شیدائی