دُختِ کرام ؓ

by Other Authors

Page 23 of 41

دُختِ کرام ؓ — Page 23

وخت کرام 23 حیران ہو کر دیکھتے تھے کہ آپ منشی کو بلا کر تمام زمینوں کا کام بجھتیں اور ان کا انتظام کرتیں اور ایسا اچھا کام سنبھالا کہ حالات پہلے سے بہتر ہو گئے۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کی وفات کا اثر ان کے بچوں نے بہت لیا۔ان کی سب سے چھوٹی بیٹی فوزیہ کے دل پر بھی بہت اثر تھا۔اس عمر میں موت کو اتنے قریب سے دیکھنا آسان نہیں۔والد صاحب کی لمبی بیماری نے اعصاب بھی کمزور کر دیئے تھے۔جوان لڑکی کی یہ حالت دیکھ کر ماں کا دل بے قرار ہو جاتا تھا۔اس زمانے میں بیرونِ ملک جانا کوئی معمولی بات نہ تھی لیکن حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحب کو اللہ تعالی نے غیر معمولی فراست عطا کی ہوئی تھی آپ جانتی تھیں کہ اس ماحول میں رہ کر طبیعت کا رخ نہ بدلے گا۔چنانچہ فوزیہ کے لئے وہ ماں باپ دونوں بن گئیں اور فیصلہ کیا کہ اس کو تبدیلی آب و ہوا کے لئے اُن کی بہن قدسیہ بیگم کے پاس لندن بھجوا دیں۔ساری تیاریاں مکمل تھیں۔لیکن فوزیہ کا دل اپنی ماں کو اکیلا چھوڑنے پر راضی نہ ہوتا تھا آخر یہ حال دیکھ کر بڑی بہنوں نے اپنی ماں کو تیار کیا کہ وہ بھی ساتھ جائیں۔ان کو بھی تو ضرورت تھی۔دل نہ چاہنے کے باوجود بیٹی کے لئے تیار ہوگئیں اور یوں یہ سفر ایک غیر معمولی برکت وسعادت کا باعث بنا۔وہ سعادت کیا تھی؟ اب اس کا حال سنو! جب آپ انگلینڈ پہنچیں تو زیورک کے امام مسجد چوہدری