دُختِ کرام ؓ

by Other Authors

Page 22 of 41

دُختِ کرام ؓ — Page 22

وخت کرام 22 22 جب آپ کی بیگم کو سر درد کا دورہ ہوتا تو سارے گھر میں آپ خاموشی کراتے اور ان کے خیال میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔مختصراً یہ ایک مثالی جوڑا تھا۔جو تکلیف میں ایک دوسرے کا سہار ابنتا تھا۔دیکھنے والے کہتے تھے کہ ایسا پیار اور وفا دنیا میں کم دیکھا ہے۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کی طبیعت میں بے انتہا سادگی تھی اور حضرت سید ہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ انتہائی ذہین اور نکتہ رس تھیں طبیعتوں کے اس اختلاف کے باوجود آپ حضرت نواب صاحب کی نیکی اور پیار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔اور طبیعتوں کے اختلاف کو محبت کے پردوں میں چھپا دیتی تھیں۔یہی باتیں تو آپ کے کریمانہ اخلاق ظاہر کرتی ہیں۔تبھی تو اللہ میاں نے دُخت کرام جیسا لقب آپ کو عطا فر مایا۔اللہ تعالی تمام بچیوں کو حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے۔تیرہ سال کی کٹھن اور تکلیف دہ بیماری کے بعد 18 ستمبر 1961ء میں حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کا انتقال ہو گیا۔اس وقت آپ کے تین بچے غیر شادی شدہ تھے۔اس کڑے وقت میں بھی آپ نے ہمت نہیں ہاری اپنے بچوں کی خاطر اپنے آپ کو مضبوط کیا اور مردوں کی طرح سارے کام سنبھال لئے آپ کے ذرائع آمدن زمینوں سے وابستہ تھے ہم