دُختِ کرام

by Other Authors

Page 485 of 497

دُختِ کرام — Page 485

۴۷۳ ہر گھڑی جسکو خدا کی تھی رضا پیش نظر راز محترقه سیده میره ظهور صاحبه ربوہ ) ایسی بیٹی پر کرے فخر زمانے کا امام جس کو اللہ نے خود نام دیا " دخت کرام " جس کے دامن پہ فرشتوں نے لٹائے سجدے باصفا ایسی کہ حوروں نے قدم بڑھ کے لیے خلتی ایسا کہ جھڑیں پھول وہ جب بات کرے حسن ایسا کہ بہاروں کو بھی جو مات کرے ہر گھڑی جس کو خُدا کی تھی رضا پیش نظر جس کو اللہ کے سوا تھا نہ کسی اور کاڈر علم ایسا کہ اثر ین کے دلوں میں اُترے رعب ایسا کہ ادب بن کے نظر سے گزرے ایسی ماؤں کے ہی قدموں کے تلے جنت ہے بزم ہستی میں وجود ان کا بڑی نعمت ہے ایسی ہستی پہ میرہ کا قلم کیا لکھے جس کے ماتھے پہ ہو تاریخ رقم کیا لکھے "