دُختِ کرام — Page 483
امام تیرے پیارے کس قدر مجبور تجھ سے دُور ہیں پر لگا کر اڑ نہیں سکتے بہت رنجور ہیں آج پھر پہنے ہیں مولا ہم نے تیرے غم کے ہار آج پھر ٹوٹے دلوں کی تجھ سے مولا ہے پکار یہ کڑا وقت ! اور ہم اپنوں سے کتنی دور میں آج اس تیری زمیں پر ہم بہت مجبور ہیں ہم سوالی بن کے مولا نتجھ سے ہی ہیں گے جواب جب کوئی پردیس سے آتے ! کیا دیں گے جواب