دُختِ کرام — Page 464
۴۵۲ گے مکان پر جو ان دنوں اپنی والدہ کے ہمراہ مانسہرہ میں ٹھرے ہوئے تھے پڑھ کر آیا تھا۔وہی رپورٹ میں نے ڈاکٹر صاحب موصوف کو بتائی۔یہ رپورٹ سن کر وہ نوجوان ڈاکٹر صاحب جن کا تعلق صوبہ سرحد سے تھا۔کسی گہری سوچ میں پڑ گئے۔آخر میں نے اس سکوت کو توڑا۔اور پوچھا کہ کیا بات ہے انہوں نے کہا کہ میں حضرت نواب صاحب کی بیماری کے دوران لاہور میں تھا اور مجھے ان کی خدمت کا موقع ملا۔اکثر رات کو جب میں ان کے کمرہ میں جاتا تو آپ کی بیگم صاحبہ کو چارپائی پکڑے ان کی صحت یابی کے لیے دعا ئیں کرتا پاتا۔میں نے اپنی ڈیوٹی کے دوران رات کو ان کی بیگم صاحبہ کو کبھی نیند یا آرام کی حالت میں نہیں دیکھا۔بس دُعا کی حالت میں دیکھا۔اب آپ سے ان کی صحت یابی کاشن کر خدا تعالیٰ کی شان کریمی پر گہری سوچ میں پڑ گیا تھا۔کہ وہ مریض جس کے بظاہر زندگی کے کوئی آثار نہیں تھے۔اور میں ان کی بیماری کے دوران صوبہ سرحد میں آگیا تھا۔اور خیال تھا کہ حضرت نواب صاحب ہمیشہ کے لیے دُنیا سے رخصت ہو چکے ہونگے مگر آپ کی بیگم صاحبہ کی دعاؤں اور راتوں کی گریہ وزاری کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ خدا تعالے نے ان کی دُعاؤں کوئے سنا اور قبول فرمایا۔اور انہوں نے اپنے خاوند کے لیے نئی زندگی حاصل کر لی۔دعا ہے کہ اسیر تعالی حضرت سیدہ بیگم صاحبہ پر اپنی بے شمار منتیں نازل فرمائے۔اور ہم سب ان کی برکات و فیوض سے ہمیشہ متمتع ہوتے