دُختِ کرام — Page 445
۴۳۳ کے ساتھ رخصت کرتی تھیں۔اور سب کا حال احوال بھی پوچھتی تھیں۔ایک دفعہ ہم نے آپ سے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے متعلق پوچھا کہ آپ کو کچھ یاد ہیں تو فرمانے لگیں۔کہ حضرت اماں جان نے مجھے ملازم کے ساتھ باہر بھجوا دیا تھا جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی تو میری عمر چار سال تھی۔اس لیے کچھ یاد نہیں۔اگر جنازے کے وقت میں موجود ہوتی تو شاید کوئی تھوڑی سی جھلک بچپن کی میرے ذہن میں موجود ہوتی ، لیکن مجھے کچھ یاد نہیں ہے۔پھر اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی فوزیہ بیگم مرزا شمیم احمد صاحب مرحوم کی باتیں بتائیں کہ کس طرح اس کے میاں جاپان میں اچانک فوت ہو گئے اس کی حضرت بیگم صاحبہ کو بہت تکلیف تھی کیونکہ وہ سب سے چھوٹی اور لاڈلی تھیں جوانی میں ہی بیوہ ہو گئیں۔پھر اس کی فوٹو بھی جاپانی ڈریس میں ہمیں دکھائی۔غالباً ۱۹۳۴۳۵ کا ایک پُر لطف واقعہ یاد آگیا۔ان دنوں والد صاحب مرحوم سنٹرل جیل لاہور میں متعین تھے اور ان کے ایک دوست ڈاکٹر سراج الدین صاحب مرحوم آف سیالکوٹ پاگل خانہ میں ڈاکٹر تھے ولاہور میں سنٹرل جیل اور پاگل خانہ کی عمارات ان دنوں تقریباً ساتھ ساتھ تھیں، ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی لا ہور تشریف لاتے اور کرم کر نل تقی الدین احمد صاحب کی کو بھٹی میں جیل روڈ پر ٹھرے ہوتے تھے حضرت سیدہ اُتم طاہر مرحومہ بھی ساتھ تھیں۔میری والدہ اور ڈاکٹر سراج نہیں