دُختِ کرام — Page 405
۳۹۳ محرقہ آپا ئیلی پچپن سے آپ کے پاس رہتی تھیں وہ بیمار تھیں ان کی بیماری سے آپ بہت پریشان تھیں۔دعائیں بھی کرتیں۔روزانہ خادم کو کبھی دوائیاں اور کبھی کھانا وغیرہ دے کر ان کا پتہ لینے بھجوائیں مجھے بھی فرمایا کہ یسلی بے چاری اکیلی اور بیمار ہے تم کبھی کبھی چلی جایا کرو۔جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث کی وفات ہوئی تو جماعت پر پراکٹھن وقت تھا آپ نے اس عظیم صدمہ کو بڑے صبر وتحمل سے برداشت کیا۔میں افسوس کے لیے گئی تو آپ صوفہ پر خاموش بیٹھی تھیں آپ کی طبیعت خراب تھی۔میں مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھی تو آپ کی ایک بیٹی نے کہا امی جان کی طبیعت خراب ہے آپ مصافحہ نہ کریں۔میرا دل شدت غم سے بھرا ہوا تھا۔میں بے ساختہ رونے لگی۔آپ بیٹی کو ناراض ہوتیں فرمایا تم نے اسے کیوں منع کیا ہے اور بڑے پیار سے اپنا ہاتھ آگے کر کے مصافحہ کیا اور فرمایا تم ادھر میرے پاس آکر بیٹھو میں نیچے قالین پر بیٹھ گئی لیکن آپ نے اصرار فرمایا کہ میرے پاس بیٹھو۔چنانچہ میں اوپر بیٹھ گئی اور پھر بڑی محبت سے فرمایا دیکھو صبر کا وقت ہے صبر کرو۔رونا نہیں خدا تعالیٰ کو رونا پسند نہیں دُعائیں کرو پھر میرے بچوں کا حال پوچھتی رہیں اور میری دلجوئی فرمائی۔آپ میرے ساتھ ایک مشفق ماں کی طرح شفقت فرماتی تھیں اکثر میں آپ کے پاس جاتی تو خادمہ باہر سے ہی مجھے کہتی کہ بیگم صاحبہ یاد فرما رہی تھیں یا پھر عموماً کسی نہ کسی کے ہاتھ مجھے پیغام بھجوا دیتیں۔