دُختِ کرام — Page 376
۳۶۴ پر فرمایا مجھے تمیم کراؤ اور پھر لیٹے لیٹے نماز ادا کی۔اس روز آپ کی بچی فوزیہ جو لاہور رہتی میں نے جانا چاہا تو روک لیا اس دن بظا ہر آپ کی طبیعت پچھلے دنوں سے بہت بہتر تھی۔دو سوا دو بجے مجھے فرمایا تم گھر نہیں گئی بچے یاد کرتے ہونگے۔زینب نے کہا میں گھر آئی کھانا سامنے رکھا تو خادم آیا اور تانگہ ساتھ لایا کہ فلاں صاحبزادی نے بلایا ہے میں نے کھانا وہیں چھوڑا کو ٹی پہنچی تو تمام رشتہ دار کمرہ میں خاموش کھڑے تھے اور دخت حرام عالم جاودانی کی طرف رحلت فرما چکی تھیں۔ایک ایک صاحبزادی نے مجھے گلے لگایا۔آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے تھے اور پھر زینب رونے لگ گئیں کہ آہ اب یہ کون کہے گا کہ فریج میں سے کچھ کھا لو اب کون مجھے پکارا کرے گا۔کون میرے لاڈ لیا کرے گا کون میرے لیے ڈاکٹر کو بلایا کرے گا۔زینب فیکٹری ایر یا ربوہ میں مقیم میں اللہ تعالیٰ نے گونگے بچے کو بڑی سمجھ دی ہے بہت اچھا کا ریگر ہے نہایت صاف ستھرا اور عمدہ گھر اللہ نے عطا فرمایا ہے۔بچیوں کو بہت اچھے گھر اللہ نے عطا کئے ہیں۔اپنے سلیقہ اور سگھڑ پن کی وجہ سے سارے محلہ میں ممتاز ہیں آپ نے مجھے بتلایا کہ یہ سب بیگم صاحبہ کی تربیت کا نتیجہ ہے یہ سینا پرونا سب آپ نے سکھلایا۔۔۔اہلی اور گھریلو زندگی انسان کی سیرت کا بڑا اہم پہلو ہوتا ہے حضرت دخت کرام کی بیگانوں پر شفقت اور لاڈ کا یہ کچھ ادنی سا ذکر