دُختِ کرام — Page 318
بچپن سے آپ کے لیے طاری رہے ، لیکن بعد میں میں نے ان کو ہمیشہ میاں طاہر کتنے سنا۔آپ جب ملنے آتے آپ ان کے لیے اُٹھ کر بیٹھتیں۔ادب سے پاس بٹھا نہیں۔حضور نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آخری نشانی کی عزت و اکرام اور خیال میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔دُور رہ کر بھی انکے قریب رہے۔اور ہر وقت علاج معالجہ کے بارہ میں ان کی ہدایات پہنچتی رہیں افسوس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باقی بچے تو صرف قادیان کو ترستے گئے۔لیکن میری اتمی امام وقت کے لیے بھی تڑپتی چلی گئیں۔فروری میں ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر آگیا جس سے ناقابل برداشت تکلیف رہی ان دنوں اس قدر طبیعت خراب تھی۔کہ ڈاکٹر لطیف احمد قریشی صاحب کی اہلیہ نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب اتنے پریشان تھے کہ دن میں کئی کئی دفعہ گھر میں اجتماعی دعا کراتے تھے علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔سب بچوں نے اپنی استعداد کے مطابق خدمت کی۔میری بڑی بہنیں حالانکہ عمر کے اس حصہ میں ہیں کہ ان کو بھی کئی کئی بیماریاں ہیں، لیکن رات کو امی کے پاس باری باری سوتی رہیں اور دن میں بھی وہیں رہتیں۔بھائی جان عباس بھی جس دوا کی ضرورت ہوتی اپنے بیٹیوں کو انگلینڈ فون کر کے منگواتے رہے۔لاہور سے بھی باری باری ہم سب آتے رہے ، لیکن طبیعت گرتی ہی گئی۔مارچ میں تقریباً دس دن آکر رہی۔ان دنوں طبیعت کافی سنبھل گئی۔میں امی کو روزانہ کچھ نہ کچھ اپنے ہاتھ سے بنا کر کھلاتی رات دن پاس