دُختِ کرام — Page 303
۲۹۱ امی کی طویل علالت کے دوران ذراسی تکلیف پر بھی سارے بہن بھائی اکٹھے ہوتے رہے اور میرے چھوٹے بھائی مصطفے نے تو مینے میں کم از کم دو بارہ ربوہ آنا برسوں سے معمول بنایا ہوا تھا۔اس نے تو اپنی خدمت سے یقینا وہ جنت کما لی جو ماں کے قدموں میں ملتی ہے۔ہر خدمت گزار اور پیارے بیٹے کی ماں کی یہ خواہش اور دُعا ہوتی ہے کہ اس بیٹے کو بھی آگے ویسا ہی بیٹا سے مصطفیٰ کے لیے بھی بہت حسرت سے یہ خواہش تھی جو افسوس کہ ان کی زندگی میں پوری نہ ہوسکی سیب بہن بھائی دُعا کریں کہ جو خزانہ دُعاؤں کا انہوں نے اس کے لیے چھوڑا ہے اس کا وافر حصہ اس کی بچیوں رملہ۔صائمہ کو عطا ہو۔اللہ تعالیٰ ان کو بلند اقبال کرے اور زندگی کے بہترین ساتھی عطا فرماتے۔میں نے امی کی زندگی میں عہد کیا تھا کہ ہمیشہ امی کی ضرورت کو اپنی ضرورتوں پر مقدم رکھوں گی جس کو نبھانے کی میں نے حتی الوسع کوشش کی۔اکثر ضرورت بلا ضرورت آتی رہتی لیکن امی کی تشنگی دور نہ ہوتی۔اکثرکھتی تھیں تم نے بچیوں کو لاہور میں پڑھوا کر میرے کام کی نہیں رہنے دیں۔چھٹیوں کا بے تابی سے انتظار ہوتا کہ کب ہم ان سے ملنے آئیں گے۔اس بار بھی دن گن گن کر کاٹ رہی تھیں ، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔اور صرف میرے آنے سے نہیں روز پہلے اللہ میاں کے پاس حاضر ہو کہ ہم سے بے نیاز ہو گئیں۔میرے ابا ایک شالی خاوند تھے انہوں نے حقیقت میں میرے دادا ابا حضور کی ہر نصیحت پر عمل کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی کے شایان شان خاوند بن کر دکھا یا۔محبت کے ساتھ ساتھ ان کا ہمیشہ عزت و احترام