دُختِ کرام — Page 293
۲۸۱ صدمہ جب امی کی صحت بھی جواب دے چکی تھی۔انہوں نے میری سب سے چھوٹی میں فوزیہ جس کو ہم پیارے گھر کھتے ہیں کے میاں عزیزم شمیم احمد صاحب جاپان میں ہارٹ اٹیک سے اچانک وفات پاگئے۔اس وقت میری سہن پردیس میں سب عزیزوں سے دُور تھی۔اور جب وہ اپنی تینوں چھوٹی بچیوں کو اور عزیزم شمیم احمد کا جنازہ سے کر ربوہ پہنچی تو وہ بالکل سنتر کی حالت میں تھی ہر دل اس کی حالت دیکھ کر پھٹ رہا تھا۔اور ہر آنکھ انسو رہا اور ہر نہ بھارہی تھی۔اور مجھے اپنی امی کا نظارہ آج بھی نگاہوں میں پھر رہا ہے وہ اپنی پیاری بچی کا سر گود میں رکھے پیار سے اس کے چہرے اور سر پر ہاتھ پھیر رہی تھیں آنکھیں شدت جذبات سے سُرخ ہو جاتی تھیں مگر صبر اور ضبط کی تصویر بنی ہوئی تھیں۔اس صدمہ نے امی کی صحت پر بہت ہی اثر ڈالا مگر امی نے پھر بھی ہمت کی اور گلو کی خاطر اپنے آپ کو سنبھالا اور امی اس کے بعد گنگو کی اور اس کے بچوں کی ماں بھی تھیں اپنی طرف سے اتی نے ہر کوشش کی کہ گلو کو اس کے بچوں کو کبھی باپ کی کمی محسوس نہ ہو ان چار پانچ ماہ میں امی کی صحت بہت گر گئی تو لگتا تھا کہ اب امی میں زندہ رہنے کی خواہش نہیں۔مگر وہ صرف گلو کی خاطر جینا چاہتی تھیں اتنی کو ہر وقت اس کا خیال رہتا تھا۔اس کی بچیوں سے بہت ہی پیار تھا۔خاص طور پر سعدیہ جو سب سے بڑی بھی تھی اس سے تو امی کو بہت ہی پیار تھا اور کئی دفعہ اس کا اظہار کیا کہ میری خواہش ہے کہ میں زندگی میں اس کی شادی دیکھوں اور اللہ تعالیٰ نے امی کی یہ خواہش پوری کر دی اور میری بہن عزیزه