دُختِ کرام

by Other Authors

Page 291 of 497

دُختِ کرام — Page 291

+49 دادا ابا حضور کے پاس ہی رہتے تھے۔ابا حضور ہی تمام اخراجات کا بوجھ اُٹھاتے تھے گو ہر قسم کے اخراجات ابا حضور کے ہی ذمہ تھے۔مگر پھر بھی شادی کے بعد اور پھر چھوٹے چھوٹے بچوں کا جب ساتھ ہو تو کئی قسم کی ضرورتیں پڑ جاتی ہیں مگر امی کی طبیعت میں بہت ہی غیرت تھی وہ خود تکلیف اُٹھا لیتی تھیں مگر کبھی اپنی کسی ضرورت کا اظہار نہیں کرتی تھیں۔امی نے اکثر بتایا کہ حضرت اماں جان مجھے اکثر بے حد اصرار سے پوچھتی تھیں بیٹی تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھے بتاؤ مگر میں غیرت کے مارے حضرت اماں جان کو بھی احساس نہیں ہونے دیتی تھی اور حضرت اماں جان خود ہی امی کی ضروریا کا خیال رکھتی تھیں۔اور پھراتی نے ہی ابا جان کو حوصلہ دیا اور ہمت دلائی اور اپنا مستقبل بنانے کی ترغیب دی جس کے نتیجہ میں ابا جان نے سندھ میں اراضی سے کر بہت محنت سے کام شروع کیا اور حضرت اماں جان اور امی کی دُعاؤں سے خدا تعالیٰ نے اس کام میں بہت برکت ڈالی۔ابا جان جو بہت ناز و نعمت سے پہلے تھے ان کو سندھ میں بہت دشوار حالات سے گذرنا پڑا۔امی کو جب ابا جان کے خطوط سے پتہ چلتا تھا تو امی بہت دُعائیں کرتی تھیں اسی دوران میری امی نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو خواب میں دیکھا کہ آپ تشریف لاتے ہیں اور امی کو فرماتے ہیں دکھیو تکلفات میں نہ پڑنا۔تکلفات اخلاص اور محبت کی جڑیں کاٹ دیتے ہیں۔امی یہ خواب دیکھ کر بہت گھبرائیں اور میرے منجھلے ماموں جان (حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو جا کر اپنا خواب سنایا کہ میں تو دکھا ئیں