دُختِ کرام — Page 253
۲۴۱ کپڑے دو ٹکڑے ہو گیا۔یہ کافی برہم تھے۔باجی جان نے کہا لاؤ میں رکھتی ہوں اس میں ایسا کیا نقص ہے یا دکاندار ہی کا دھوکا ہے۔الیسا تو کبھی ہوا نہیں باجی جان نے یہ کہتے ہی وہ چین ہاتھ میں پکڑی ہی تھی کہ پھر اس کے دو کڑے ہو گئے۔اب وہ چین چار ٹکڑوں میں ہوگئی ، انہوں نے جب یہ دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ زیور انہوں نے (یعنی میں نے ہاتھ لگاتے ہی اس بُری طرح توڑا ہے کہ اب ٹوٹتا ہی جا رہا ہے۔میں خود بڑی متعجب اور منذ بذب تھی کہ ایسا کیوں ہوا اور ایسا کیوں ہو رہا ہے۔آخر باجی جان نے کہا کہ بڑے بھائی۔یہ قصور نہ تو ان کا ہے اور نہ ہی میرا۔بلکہ اس جیولر کا ہے جس نے دھو کے کے لیے یہ ڈھونگ رچایا تاکہ جس قدر ہوسکے ناجائز طور پر شور مچا کر اپنا الو سیدھا کرے۔آپ اس زیور کو اسی وقت واپس کریں اور کسی دوسرے جیوار سے منگوائیں۔آپ کو ایک حق بات صاف نظر آرہی تھی آپ نے کسی خوش اسلوبی سے اس بات کو ختم کروایا۔اور ثابت کروایا کہ یہ اسی جیولر کی اپنی کوئی شعبدہ بازی تھی۔ہم لوگ تھے نئے قادیان سے آئے ہوئے تھے اور رتن باغ میں پورا خاندان قیام پذیر تھا۔اور باقی باہر کے تمام کوارٹرز اور رتن باغ کے کھلے و عریض میدان اور باغ میں ہمارے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کی نگرانی میں قیام پذیر تھے۔ہزاروں سلام اور رحمتیں آپ پر۔ان شخصیتوں کے بابرکت وجودوں سے محرومی۔ہمارے لیے یقینا لمحہ فکریہ ہے۔خدا کرے کہ ہم ان کی صفات سے رنگین ہوں۔تاکہ برکات کا تسلسل مزید بڑھتا چلا جائے