دُختِ کرام — Page 240
۴۲۸ جمیل کا خود بہت احساس تھا۔دوسرے میری ذات سے ان کو بہت تعلی اور ہمدردی تھی۔سید نا حضرت فضل عمر کے بخیریت قادیان سے آجانے کے بعد جب ہم لوگوں نے جو دھامل بلڈنگ سے رتن باغ شفٹ کیا ہے تو اس وقت حالات اسی طرح مخدوش اور پریشان کن تھے کنوائے آرہے تھے۔ریفیوجیز کے لانے اور تقسیم کرنے اور پھر خورد و نوش کا مسئلہ ہنوز روز اول تھا۔باجی جان کے پاس خدا معلوم کس طرح چند ان کے اپنے پہننے کے عام مستعمل کپڑے جو کہ غالباً دو چار جوڑوں پر مشتمل ہونگے آگئے ان میں سے ایک جوڑا مجھے بھجوایا۔ان کی گری نظریں مجھ پر تھیں اور ایک مخلصانہ ہمدردی اندر اندر کام کر رہی تھی۔کہ یہ تو بالکل خاموش ہے اور اس کے پاس ہے بھی کچھ نہیں اس لیے آپ نے اپنی کمال شفقت و پیارے وہ کپڑے مجھے بھجوائے اور یہ پیغام ساتھ بھجوایا کہ اگر بڑا د مانو میرے یہ کپڑے اگر چہ پڑاتے ہیں تم وقتی طور پر استعمال کر لو۔میں نے کہلوایا۔یا جی جان۔برا ماننے کا سوال ؟ یہ تو میرے لیے تبرک بھی ہے۔اور میری ضرورت بھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے جس ہمدردی اور خلوص سے حالات کے تحت یہ تحفہ بھیجا ہے یہ تو میرا سرمایہ ہے۔دوران قیام رتن باغ۔ایک دفعہ کسی نے غلط فہمی کی بنا پر امی جات کو یہ کہ دیا کہ فلاں بات جو آپ نے کسی تھی۔وہ مہر آپا نے ہی سید نا حضرت فضل عمر کو تبائی ہے (مجھے اب نہ وہ بات یاد ہے نہ واقعہ اور یوں بھی کوئی