دُختِ کرام — Page 232
۲۲۰ صاحب خلیفہ امسیح الرابع ایدہ کے فرمان کے مطابق ہمیں اپنی قربانیوں اور اخلاص سے ان برکتوں کا مورد بینا چاہئے جو بھی ختم نہ ہوں بلکہ ہمیشہ ہمیش جاری رہیں اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے آمین حضرت سیدہ امتہ الحفیظ حکیم صاحبہ میری پھوپھی زاد بہن تھیں ہم دونوں میں عمر کا بہت فرق تھا۔۱۹۳۲۔میں حضرت والد صاحب ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب مرحوم نے جو ان دنوں رہتک میں سول سرجن گئے ہوتے تھے مجھے تعلیم کے لیے قاریان بھجوا دیا کچھ عرصہ تو میں اپنی نانی اماں کے گھر رہی پھر باتی ہیں بھائی بھی پڑھنے کے لیے قادیان آگئے اور والدہ صاحب بھی آگئیں۔ان دنوں حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ حضرت اماں جان کے پاس مقیم تھیں اور الیف اسے انگریزی کے امتحان کی پرائیویٹ طور پر تیاری کر رہی تھیں میری اچھی طرح جان پہچان ان سے اس عرصہ میں ہوئی میں اکثر حضرت اماں جان کے ہاں جایا کرتی تھی آپ کی محبت میں گزارے ہوئے وہ دن اب بھی بڑی شدت سے یاد آتے ہیں عمر کے فرق کے باوجود ہم دونوں بہت بے تکلف تھیں میری سلائی اچھی تھی آپ نے اپنی چھوٹی بچیوں کے کتنی فراک مجھ سے سلواتے۔پھر میری شادی ہوئی تو آپ سے نند کا رشتہ بھی ہو گیا۔عمر کے ساتھ ساتھ میرے دل میں آپ کی عزت اور احترام بڑھتا ہی چلا گیا۔جب حضرت اماں جان بہت بیمار ہو تیں تو اپنی دنوں لاہور میں حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب بھی بہت علیل تھے آپ کے لیے شوہر کو