دُختِ کرام — Page 200
|^^ کا نام ہے۔۔۔پس سب سے پہلا اور سب سے اہم فریضہ اولاد کا یہ ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کی برکتوں کو جاری رکھیں وہ لوگ جو اپنے بزرگوں کی برکتوں کا نوحہ کرنے لگ جاتے ہیں کہ وہ بزرگوں کے ساتھ ہی اٹھ گئیں وہ اپنے ہاتھ سے ان برکتوں کو ہلاک کرنے والے ہوتے ہیں امر واقعہ یہ ہے کہ کسی بزرگ کے وصال کے بعد خدا تعالیٰ کبھی اس کی برکتوں کو ختم نہیں فرماتا۔یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اس کی برکتوں سے قطع تعلقی کرلیں۔یا اس تعلق کو جاری رکھیں اور برکتوں کو اپنے اندر ہمیشہ کے لیے زندہ رکھیں۔۔۔۔۔اس لیے اس مضمون کو خوب سمجھ لینا چاہتے کہ صاحب برکت وجودوں کی برکتوں کو زندہ رکھنا ان لوگوں کا کام ہے جو ان برکتوں کو ایک دفعہ اس کی زندگی میں حاصل کر چکے ہیں یہ ان کے اختیار میں ہے کہ چاہیں تو ان برکتوں کو ختم کردیں اور انہیں پیچھے ماضی میں چھوڑ جائیں۔اسی لیے جب بھی کوئی با برکت وجود گذرتا ہے تو جماعت احمدیہ کو یہ عہد کرنا چاہتے کہ ہم اس کی برکتوں سے بفضلہ تعالیٰ مضبوطی کیسا تھے مجھے ر ہیں گئے اور کسی برکت کو بھی اس وجود کے جانے کے نتیجہ میں اپنے ہاتھ سے ضائع نہیں کریں گے۔اگر جماعت یہ عزم کرتی ہے تو کوئی بھی آئے اور چلا جائے اس کے نتیجہ میں جماعت کو کوئی دائمی نقصان نہیں پہنچ سکتا ہر آنے والا اپنی خاص برکتیں چھوڑ کر جایا کرے گا اور ہمیشہ کے لیے وہ برکتیں جماعت کی امانت بنتی چلی جائیں گی اور جماعت ہمیشہ ہی اپنے پہلے حال کی نسبت بہتر حال میں منتقل ہوتی چلی جائے گی حضرت سیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے