دُختِ کرام — Page 116
۱۰۴ ہی سامنے آسکا ہے جس کا اظہار جمعی تنظیم کی وجہ سے ناگزیر تھا۔اور اسے صرف ایک جھلک کہ سکتے ہیں یا مشتے نمونہ از خروارے۔مندرجہ ذیل تفصیل میں ایسے چندے شامل نہیں جو حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب نے ادا فرماتے لیکن ان میں بھی حضرت سیدہ موصوفہ شامل تھیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ الدال على الخير كفاعله کے تحت حضرت سیدہ موصوفہ ہی کی وجہ سے حضرت نواب صاحب مرحوم ومغفور مسابقت في الخیرات کا مورد رہے اور ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر نہ صرف خود حصہ لیا بلکہ اپنی زوجہ محترمہ اور اپنے بچوں کو بھی شامل رکھا اور اس سلسلہ میں آپ دوسروں کو بھی تحریص و ترغیب دلاتے رہے اور با وجود گوناگوں مصروفیات کے بعض تحریکات میں گرانقدر چندہ جمع کر کے دیا۔انسانی زندگی میں عسر و سیر کا سلسلہ چلتا رہتا ہے بسا اوقات انسان پر فراخی اور کشائش کا دور آتا ہے اور کبھی تنگی ترشی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن تنگی ترشی کے دور میں انفاق فی سبیل اللہ ہی کمی نہ آنے دینا اور خود تکلیف اُٹھا کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بڑے دل گردہ کا کام ہے اور اسی مردان خدا کا شیوہ ہے جن کا یہ نعرہ ہو کہ اِن صَلاتِي وَنُسُکی ومحياي ومماتي لله رب العلمین اور سب کچھ الہ تعالی کی راہ میں خرچ کر دینے کے باوجود وہ یہی کہہ رہے ہوں کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا