دُختِ کرام

by Other Authors

Page 115 of 497

دُختِ کرام — Page 115

۱۰۳ رہے۔۔۔۔۔حقیقت میں مجھے اس امر پر بھی چندہ نہیں دینا چاہیے تھا۔کیونکہ یہ آمد بھی میری بیوی کی ہی تھی۔میں نے ایک مضمون پچھلے دنوں الحکم میں لکھا تھا اس میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ یہ کام دراصل میرا نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دونوں بیٹیوں کا ہے ، لیکن اس انعام کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے میرے پر کیا ہوا ہے میں چاہتا ہوں کہ جس قدر بھی زیادہ سے زیادہ رقم اللہ تعالیٰ کے نام پر ہمارے گھر سے نکل جائے اسی قدر بہتر ہے۔چنانچہ میری والدہ نواب مبارک بیگم صاحبہ بھی ا ہی چندہ ادا کرتی ہیں رحالانکہ وہ نظام وصیت سے مستشنی ہیں۔مرتب او قیت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسرے چندوں کو ملا کر آمد کا کم از کم یا حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جا رہا ہے۔۔۔۔۔“ (اصحاب احمد جلد ۱۲ مت) دیگر چندہ جات کی ادائیگی کا مجملاً ذکر کیا جاتا ہے دراصل انفاق فی سبیل اللہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس میں اخفا کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کے اس کارخیر سے دوسرے واقف ہوں ان کا یہ معاملہ محض اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے اسی لیے حضرت سیدہ موصوفہ کے انفاق فی سبیل اللہ کا صرف وہ ریکارڈ