دُختِ کرام — Page 114
1 I تحریکات میں سیدہ موصوفہ نے بفضلہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اور جب بھی کوئی عالی تحریک ہوئی انہوں نے انفرادی طور پر بھی اور اپنے ذی وقار شوہر کی معیت میں بھی شاندار نمونہ پیش کیا۔اور انفاق فی سبیل اللہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔تحریک جدید کا چندہ وعدہ کے ساتھ ہی ادا کر دیتی تھیں۔نہ صرف اپنا بلکہ اپنے صاحبزادوں اور صاحبزادیوں تک کا بھی حتٰی کہ اپنی ایک خادمہ محمد بی بی صاحبہ کا چندہ بھی آپ اپنی طرف سے ادا کرتی رہیں۔پانچ ہزاری مجاہدین میں بلحاظ ادائیگی السابقون الاولون میں شامل ہیں گو حضرت سیدہ موصوفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد (مندرجہ رسالہ الوقیت ما ) کے مطابق نظام وصیت سے مستشنی تھیں رجس میں حضور نے فرمایا " میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے ، لیکن اس کے باوجود آپ چندہ عام اور حصہ جائیداد ادا فرماتی رہیں۔جیسا کہ حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب نے رقم فرمایا :- میری بیوی کی قادیان میں اراضیات کافی ہیں وہ فروخت ہوتی ہیں اور ان کا روپیہ آتا ہے اور اسی روپیہ سے ہمارا گزارہ کئی سال سے ہوتا رہا ہے۔اس کے علاوہ دراصل سندھ کی اراضیات کا لین دین میری بیوی کے روپیہ سے ہی ہوا ہے میں نے صرف اس غرض سے اپنے نام پر اراضیات کو کیا ہے کہ وصیت کا روپیہ میرے نام سے لکھتا