دُختِ کرام — Page 91
49 ماں کی اولاد ہیں اور کس نانا کے وہ نواسے اور نواسیاں ہیں۔کس مقام کا ان کا ماموں ہے اور وہ اس دادا کی اولا د میں جس نے اپنی اولاد سنوارنے کے لیے اپنے وطن کو چھوڑا۔اور محلات کو چھوڑ کر ایک کوربستی میں ایک تنگ مکان میں بسیرا کیا۔۔۔۔۔میری دعاؤں اور نیک خواہشوں کا وہی بچہ حقدار ہو گا جو اپنی ماں کی خدمت کو جزو ایمان اور فرض قرار دے گا۔ان کی ماں معمولی عورت نہیں ہیں۔میں نے ان کے وجود میں اللہ تعالیٰ کی تجلیات کو کار فرما دیکھا ہے ہر قوت تت اور ہر مشکل کے وقت ان کی ذات کو اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کا محور پایا۔چار سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے حبیب کی گود سے لیا۔پھر عجیب در مجیب رنگ میں ان کی ربوبیت فرمانی میں نے اللہ تعالیٰ کے جو نشانات اپنی زندگی میں ان کے وجود میں دیکھے ہیں وہ ایک بڑی حد تک احمدیت پر ایمان کامل پیدا کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔پس جو بچھے میرے بعد ان کو خوش رکھیں گے اور ان کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں گئے ان کے ساتھ میری دعائیں اور نیک آرزوئیں ہونگی جو بچے ان کو ناراض کریں گے وہ میری روح کو بھی دُکھ دیں گے میں ان سے دور۔وہ مجھ سے دور ہونگے۔اللہ تعالیٰ میری اولاد کو اپنی رضا کے ماتحت ماں کی خدمت کی توفیق دے