دُختِ کرام — Page 85
پہنچا دیا۔اس منہ مہر و وفا نے جب میری بیماری کی اطلاع راولپنڈی میں پائی تو نہایت درجہ پریشانی کی حالت میں فورا نہ ہور پہنچیں یہ میری بیماری کی پہلی رات تھی اور ساری رات موٹر پر ان کو رہنا پڑا۔صبح چار بجے کے قریب لاہور پہنچیں لیکن کیا مجال میرے پر اپنی گھراہٹ کا اظہار ہونے دیا ہو۔پھر اس قدرتی رہی اور جانفشانی سے میری خدمت میں لگ گئیں کہ میں کہہ نہیں سکتا کوئی دوسری عورت اس قدر محبت اور پیار کے جذبہ سے اپنے خاوند کی خدمت کر سکتی ہو اس اللہ تعالیٰ کی بندی نے اپنے اوپر آرام کو حرام کر لیا۔رات دن جاگتے ہوئے کاٹتی تھیں کمرہ تنگ تھا اس لیے دوسری چارپائی کمرہ میں کچھ نہیں سکتی تھی اس لیے یہ ناز و نعمت کی پلی جو کہ ریشم و اطلس کے لحافوں میں آرام کی عادی تھی زمین پر چند منٹ کے لیے مریک کر آرام سے لیتی تھی بلکہ زمین پر نہیں ایک تخت پوشش نماز کے لیے بچھا ہوا تھا۔اس پر چند منٹ کا آرام اگر میسر آجائے تو آجائے وگرنہ ہر وقت چوکس ہوشیار میرے کام کے لیے مستعد ہوتی تھیں۔یہ نہیں کہ کوئی اور میرا خبر گیرانہ تھا ان مت ایام میں ملازموں کے علاوہ تمام عزیز اور رشتہ دار میری بادت میں لگے ہوتے تھے میں اس بیماری میں اپنے کو اس قدر خوش نصیب اور خوش بخت لوگوں میں متصور کرتا تھا جس کا آپ