دُختِ کرام

by Other Authors

Page 84 of 497

دُختِ کرام — Page 84

۷۲ میرے آرام میں لگی رہیں نہ صرف یہ کیا بلکہ جماعت میں جو مضطر بانہ اور بے قراری کا جذبہ دعا کے لیے پیدا ہوا زیادہ تر انہی کی تحریک کا نتیجہ تھا۔ان کی رباعیات نے جماعت میں ایک ہلچل مچادی ایسا ولولہ پیدا کر دیا کہ اہل خانہ مسیح موعود سے محبت رکھنے والے اپنی کے رنگ مادرانہ میں رنگین ہو گئے اضطراب اور بے تابی سے دُعا کرتے تھے۔اب میں یہاں اگر اپنی بیوی حضرت رحیت کرام انا الحفیظ بیگم صاحبہ کا ذکر نہ کروں تو نہایت ناشکری اور ظلم ہوگا۔یہ نور کا یکڑا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جگر گوشہ ہو میرے پہلو کی زینت بنا ہوا ہے کسی خدمت اور کسی نیکی کے عوض مجھے حاصل ہوا ہے اسی بات کو سوچ کر میں ورطہ حیرت و استعجاب میں پڑ جاتا ہوں موجودہ زمانہ کا روحانی بادشاہ جری ال نی مل او بیاید نے اپنے لیے یہ خاکسارانہ الفاظ استعمال فرماتے ہیں آج تک اس کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہوں لیکن میرے جیسے ناچیز انسان کے لیے یہ حقیقت ہے میں اصل میں ان اشعار کا مورد ہوں ے کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بیشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو دے کر مجھے زمین سے اُٹھا کر ثریا بنر