دُختِ کرام — Page 83
: کڑے وقت میں سارا خاندان ایک جگہ اکٹھا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی۔۔۔اس بیماری کے دوران میں مہربانی فرماتے رہے۔ان کی خاص دعاؤں کا مورد بنا رہا کہ انہوں نے میرے اچھا ہونے سے بہت پہلے خواب میں مجھے پورا صحت یاب دیکھا پھر اماں جان جو کہ میرے لیے ماں سے بڑھ کر تھیں میں اپنی ماں کی محبت سے محروم تھا۔کیونکہ میں بچہ ہی تھا کہ وہ فوت ہو گئیں لیکن اس کمی کو حضرت اماں جان کی محبت نے پورا کر دیا۔جب میری طبیعت زیادہ خراب ہوتی تو فوراً میری چارپائی کے پاس آکر بیٹھ جاتیں نہ صرف دُعا کرتیں بلکہ ان کا پُرسکون چہرہ اور پر امید چہرہ میرے لیے ایک بیش بہا آسرا اور سہارا ہوا کرتا تھا۔ان کی موجودگی ایسی قوت ارادی پیدا کرتی کہ ساری گھبراہٹ اور بے چینی اپنی پیاری دور ہوتی پاتا۔اللہ تعالیٰ ان کے مرقد پر اپنے انوار کی بارش نازل فرمائے اور وہ کچھ ان کو دے جو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام ان کے لیے چاہتے تھے۔ان کو سب کچھ حاصل تھا۔میں اپنی زبان سے کیا دعا ان کے لیے کر سکتا ہوں پھر اپنی والدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں پاتا انہوں نے میری محبت میں ایک سال نہایت تکلیف اور بے آرامی میں میرے کمرے میں گذارا۔ہرقسم کے آرام و آسائش کو چھوڑ کر