دُختِ کرام — Page 82
4۔جوکہ في وقوم اور سمیع ہے مانگ کر ہی صبر کیا۔ایک مخلص بین نے میری بیوی کو لکھا کہ جب انہوں نے میری تشویش ناک حالت کا اخبار میں پڑھا تو وہ سجدہ میں گرگئیں اور اس قدر اضطراب اور بے قراری سے ان الفاظ میں دُعا کی کہ جب تک اسے میرے مولا تو مجھے ان کی صحت کے متعلق مطمئن نہیں کر دیتا۔میں تیرے حضور نے سر نہیں اُٹھاؤں گی چنانچہ جب ان کو تسلی مل گئی تو پھر انہوں نے بارگاہ ایزدی سے سر اٹھایا۔پھر سی ایک شمال نہیں اب بھی مجھے اکثر بھائی ملتے ہیں اور ذکر کرتے ہیں کہ کسی کسی رنگ میں انہوں نے میرے لیے دُعائیں کیں خدا کی اس عنایت اور مہربانی کا میں جس قدر بھی شکریہ ادا کروں وہ کم ہے۔میں کیا اور میری ہستی کیا۔میں نے اپنی قریباً ساٹھ سالہ زندگی میں ان کے لیے کیا کیا ؟ یہ محض حضرت مسیح موعود کی صاحبزادی کے طفیل ہے یہ تڑپ یہ دلسوزی یہ بیقراری اس واسطے تھی یہ اس محبت اور خلوص کا کرشمہ ہے جو اس والہانہ محبت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہے۔انہوں نے صاحبزادی کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا اور بے قرار ہو ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتے اور مجھے اس بیماری سے نجات دلا دی۔پھر میں کس کس بات کا شکریہ ادا کروں یہ میری خوش نصیبی سمجھتے یا حسین اتفاق کہ اس