دُختِ کرام — Page 80
۶۸ اس کا مختصر تذکرہ گذشتہ صفحات میں کیا جا چکا ہے۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب مسلسل و متواتر اس شادی کی اہمیت اور اس سے عائد ہونے والی عظیم ذمہ داریوں کی طرف حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کی توجہ مبذول کرواتے رہے۔اور سب سے زیادہ تاکید اس بات کی کرتے رہے کہ حضرت امتہ الحفیظ صاحبہ اللہ تعالیٰ کے ایک مقدس اور چنیدہ مامور کی دختر نیک اختر اور مبشر اولاد کا ایک فرد اور اللہ تعالٰی کے نشانوں میں سے ایک نشان ہیں اس لیے ان کی قرار واقعی عزت و احترام ہمیشہ محفوظ رہے اور حق یہ ہے کہ حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب نے ساری زندگی اس عید کو بوجودو احسن نہ صرف نبھایا۔بلکہ اپنی ساری اولاد کو بھی ہمیشہ تلقین فرماتے رہے کہ اس بابرکت وجود کا احترام کریں۔ذیل میں حضرت نواب محمد عبدالله خان صاحب کی بعض تحریرات اس ضمن میں پیش کی جارہی ہیں۔اپنی بڑی بیٹی محترمہ آمنہ طیبہ صاحبہ کی شادی کے موقع پر نصائح سے پر ایک طویل خط تحریر فرمایا اس کے بعض اقتباسات :- " تمہاری امتی اس معاملہ میں بہترین نمونہ نہیں تم نے خود دیکھا ہے کہ کس قدر تگی انہوں نے میرے ساتھ اٹھائی ، لیکن اس وقت کو نہایت وفا اور محبت کے ساتھ گزار دیا ایک طرف تو یہ تسلیم و رضا تھی اور دوسری طرف مجھے کام کرنے اور باہر نکل جانے کی ترغیب دیتی تھیں آخر اس صابر و شاکر مہستی کی دُعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور فضل کے دروازے