دُختِ کرام — Page 78
۶۶ بریز ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ سب اس کی خاطر قربان ہو جاتے اور میں اسی کا ہو کر رہ جاؤں میں آپ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کی توفیق دے دراصل عملی طور سے ہے بھی یہی ہیں اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دو بیٹیوں کا خادم سمجھتا ہوں میری ساری کوشش اور محنت صرف اس لیے ہے کہ اس پاک وجود کے جگر پارے جن میں سے اللہ تعالٰی نے ایک کو میرے والد اور ایک کو میرے سپرد کیا ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ شاہد ہے کہ اس رحمت اور برکت کو میں نے کبھی اپنی ذات کی طرف منسوب نہیں کیا۔میرے پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ حضرت اماں جان کی دُعاؤں کے فصیل ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے قلب میں میرے لیے پیارو محبت پیدا کر دیا ہے ایک وقت تھا کہ وہ خود بھی دعائیں فرماتی تھیں بلکہ ہر ایک کو کہتی تھیں کہ عبداللہ خان کے لیے دعائیں کرو اس لیے اللہ تعالی کے بعد میری گردن جذبات شکر اور محبت سے ان کے حضور جھکی ہوتی ہے۔میری والدہ جبکہ میں چار پانچ سال کا دبلکہ قریباً تین سال کا موقف) تھا فوت ہو گئی تھیں۔میں ماں کی محبت سے بے خبر تھا لیکن میرے درود و روف مولا نے حضرت اماں جان کے وجود