دُختِ کرام

by Other Authors

Page 48 of 497

دُختِ کرام — Page 48

۳۶ کس طرح پا یہ تکمیل کو پہنچے اس کی کسی قدر تفصیل یوں ہے۔۔۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی تقلیبی تمنا تھی کہ ان کے بچوں کے رشتے احمدیوں میں ہوں اور حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اسیح الاول ان سے متفق تھے۔چنانچہ حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب بیان فرماتے ہیں :۔والد صاحب کی خواہش تھی کہ ہم بھائیوں کے رشتے احمدیوں کے ہاں ہوں تاہم احمدیت میں راسخ ہو جائیں اور دنیوی تعلقات میں پھنس کر احمدیت سے بیگانہ نہ ہو جائیں ، لیکن اس وقت احمدیوں کے بعض رشتے جو ہمارے سامنے پیش کئے گئے۔ہمیں بعض وجوہ سے پسند نہ تھے۔نواب موسی خان صاحب جو کہ نواب مزمل اللہ خان صاحب سابق وائس چانسلر علی گڑھ یونیورسٹی کے رشتہ داروں میں سے تھے اور شیروانی خاندان سے ہی ہیں اور عرصہ سے علی گڑھ جا کر آباد ہو چکے ہیں۔ان کی ایک لڑکی ہمارے خاندان میں مالیر کوٹلہ میں نواب صاحب الیر کوٹلہ کے چھوٹے بھائی صاحبزادہ جعفر علی خان صاحب سے بیاہی ہوئی تھی۔ان کی خواہش تھی کہ ہمارے رشتے اُن کے ہاں ہوں چنانچہ میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب اور میرے رشتہ کی گفتگو ہوتی۔والد صاحب کو خیال تھا کہ ریاست کے