دُختِ کرام — Page 484
۴۷۲ جگمگاتی پانچ مہروں کی لڑی راز عزیزه ستیده منصوره حنا بنت سید سجاد احمد ربوہ ) جگمگاتی پانچ ہیروں کی لڑی خود خدا نے اپنے ہاتھوں سے جڑی گوہر یکتا تھے سارے بالیقیں روشنی تھی ان سے ہر دم ہر گھڑی زیست نصرت جہاں پانچوں گھر يبداء مِنكَ کی پاکیزہ ٹری اپنے اپنے وقت پراو مجمل ہوئے آئی جب بھی ان کے جانے کی گھڑی اُس لڑی کا آخری ہیرا گیا مل سکے گی اب کہاں وہ پنجڑی جانے والا لوٹ کر آجائے کاش دل میں اس کے آرزو تھی یہ بڑی پردیس میں کوئی تڑپتا رہ گیا آزمائش یہ بھی تھی لیکن کڑی کھول دے باب اجابت اسے خدا در پہ تیرے دیر سے میں ہوں کھڑی یا گیا منصورہ وہ دونوں جہاں انس کی رحمت کی نظر جس پر پڑی